اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک کے بالائی علاقے بدستور شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جھیلیں جم گئیں جبکہ برفباری کے باعث پہاڑ سفید ہو گئے جس سے آزاد کشمیر، خبیرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کی رونقیں بڑھ گئیں۔

اسلام آباد خشک سردی اور دھند کی لپیٹ میں ہے، شہر کا مطلع دن بھر ابر آلود رہا، محکمہ موسمیات کے مطابق شہر اقتدار میں بارش کا کوئی امکان نہیں، لاہور میں بھی سردی بڑھ گئی جبکہ دھند کی شدت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی، شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

ملکہ کوہسار مری میں برفباری کے بعد جب دھوپ نکلی تو نظارے اور بھی دلفریب ہوگئے، خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے سیاحوں نے تفریحی مقامات کا رخ کیا، سیاح قدرت کے حسین نظاروں سے خوب لطف اندوز ہوئے۔

ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں پھر سے برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا، چھٹی کے روز نتھیا گلی میں ڈیرے ڈالے سیاحوں نے سنو فال کو خوب انجوائے کیا، ادھر مالم جبہ کا موسم بھی حسین ہو گیا، سیاحوں کی کثیر تعداد نے وادی کا رخ کیا، قدرتی حسن اور برف باری سے محظوظ ہوئے۔

وادی شگر میں موسم سرما اور سال کی پہلی برفباری کا آغاز ہو گیا، برفباری کے باعث وادی کا موسم سرد ہو گیا، ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں کمی آگئی، برفباری پر سیاحوں کے چہرے کھل اٹھے، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور وسطی اضلاع میں بھی سردی کی شدت بڑھ گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہو گیا

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد