Jang News:
2026-07-24@04:17:24 GMT

26 نومبر احتجاج، علیمہ خان کی بریت کی درخواست، فیصلہ محفوظ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

26 نومبر احتجاج، علیمہ خان کی بریت کی درخواست، فیصلہ محفوظ

—فائل فوٹو

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر احتجاج کے کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمےکی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت علیمہ خان کی جانب سے دائر بریت کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کی بحث مکمل ہو گئی۔

علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ 26 نومبر احتجاج میں علیمہ خان کا قصور یہ ہے کہ بھائی سے جیل میں ملاقات کی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پارٹی اور عوام تک پہنچایا، بانی پی ٹی آئی نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا تھا، پُرامن احتجاج کو جمہوری و آئینی تحفظ حاصل ہے۔

فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے، علیمہ خان

بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے۔

وکیل فیصل ملک نے کہا کہ مقدمے میں بتایا گیا کہ علیمہ خان نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کا پیغام دیا، کسی صحافی یا میڈیا چینل کو اس مقدمے میں گواہ یا نامزد نہیں کیا گیا۔

عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ میڈیا کو بھی اس مقدمے میں پھنسایا جائے۔ جس پر علیمہ خان کے وکیل نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ علیمہ خان اور صحافیوں نے ایک جیسا پیغام رپورٹ کیا، جیل ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا کوئی گواہ موجود نہیں۔

عدالت نے وکیل فیصل ملک سے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے صرف احتجاج کا پیغام دیا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ جی ہاں علیمہ خان نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا، مقدمے میں شامل دفعات کسی طور ملزمہ پر لگے الزامات کو ثابت نہیں کرتیں، قانون میں ایسا نہیں لکھا کہ پیغام دینے والا ملزم ہو، انسداد دہشت گری ایکٹ کی سیکشن 6 میں درج شقیں ملزمہ کے جرم کو ثابت نہیں کرتیں، یہ کیس بنتا ہی نہیں، یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی 5 شقوں کے تحت فرد جرم عائد کی، ملزمہ پر فرد جرم تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی، سیاسی احتجاج کے دوران سارا کنٹرول اور منتظمین کے پاس ہوتا ہے، تھیوری آف کنٹرول کہتا ہے کہ کسی بھی ایسے احتجاج میں ملزم کے پاس سارا کنٹرول ہوتا ہے، میڈیا کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، میڈیا نے کون سا اپنا وزیراعظم بنانا تھا۔

اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، علیمہ خان

علیمہ خان نے کہا کہ یہ غیرقانونی عمل ہے، ہم آج عدالت سے لیٹ ہوئے تو غیرحاضری لگادی گئی۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ لوگ میڈیا کے کہنے پر باہر نہیں آئے، میڈیا کو گواہ کیوں بنائیں جب یہ خود مان رہے ہیں ہم نے اس احتجاج کیا، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے کہنے پر باہر آئے لیکن عدالت کے سامنے نہیں مان رہے۔ پراسیکیوٹر نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاکس کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر عدالت کو سنایا، آئین میں لکھا ہے، کوئی بھی احتجاج اور ریلی قانون کے دائرے میں ہوگی، ملزمان نے حکومت گرانے کے لیے پُرتشدد احتجاج کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے میڈیا گفتگو میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا احتجاج کا این او سی ہو یانہ ہو ہم نہیں مانیں گے، یہ کیسا پُرامن احتجاج تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170زخمی ہوئے تھے، پورے ملک میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، ملک کو جام کر دیا گیا، احتجاج کے وقت ملزمان خود مان رہے تھے، ہم نے ملک بند کر دیا، خیبر پختونخوا سے مسلح جتھے پنجاب لائے گئے، مقدمے میں 18 گواہاں ریکارڈ ہو چکے ہیں، اس اسٹیج پر بریت کی درخواست کا کوئی جواز نہیں، عدالت سے استدعا ہے ملزمہ کی درخواست بریت خارج کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: احتجاج کا پیغام دیا بریت کی درخواست علیمہ خان نے علیمہ خان کی کہ علیمہ خان بانی پی ٹی نے کہا کہ

پڑھیں:

مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔

یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔

30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی