کراچی میں فشنگ ٹیکنالوجی میوزیم کا افتتاح اور ماہی دوست ایپ کی سافٹ لانچنگ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی میں فشنگ ٹیکنالوجی میوزیم کا افتتاح اور ماہی دوست ایپ کی سافٹ لانچنگ کردی۔
میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ میں "ماہی دوست ایپ" کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیربحری امور جنید انوار چوہدری، چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل شاہد احمد، ڈی جی میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ منصور علی وسان سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اسسٹنٹ ڈائیریکٹر میرین فشریز شفاعت حسین نے ایپ سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ یورپ نے ایسی سی فوڈ پر پابندی لگائی ہے جوعالمی قوانین کی خلاف ورزی سے حاصل ہو، ماہی دوست ایپ پر مچھلیوں کی تعداد، مچھلیوں کی نسل اور کشتیوں سمیت تمام اہم ڈیٹا موجود ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ فشرمین اپنا، کشتی کی رجسٹریشن اور ڈیٹا کا اندراج ایپ پرکریگا، جی پی ایس کے ذریعے مچھلی پکڑنے کے مقام کا تعین با آسانی ہوسکے گا، کس جال سے مچھلی اور کتنی تعداد میں مچھلی پکڑی ہے سب معلومات ایپ پرموجود ہوگی، یہ ایپ یورپ اورامریکہ کی کمپلائیس میں مددگارثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ دونوں منصوبے سی فوڈ برآمدات میں اہم کردار ادا کریں گے، ماہی دوست ایپ ماہی گیری میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنائے گی۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ 2025 میں سمندری مصنوعات کی برآمدات 235 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، بلیو اکانومی پر فوکس کرنا وزیراعظم کا وژن ہے۔
انہوں نے کہا کہ فشنگ ٹیکنالوجی میوزیم تحقیق، تعلیم اور پالیسی سازی کا قومی مرکز ہوگا اور بلیو اکانومی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جدید ٹیکنالوجی پائیدار ماہی گیری کے اہداف کے حصول میں مدد دے گی۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ غیر قانونی اور غیر رپورٹ شدہ ماہی گیری کے خلاف مؤثر نگرانی ممکن ہوگی، ماہی دوست ایپ عالمی ماہی گیری معیارات سے ہم آہنگ ہے، ڈیجیٹل نظام سے سمندری غذائی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے، ماہی گیروں کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اقدامات بلیو اکانومی پالیسی اور ایس ڈی جی 14 سے ہم آہنگ ہیں، جدید ٹیکنالوجی نہ اپنائی تو دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر ماہی گیری نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔