چھوٹے، درمیانے کاروبار ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
تصویر، سمیڈا اجلاس، بشکریہ پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آسان شرائط پر قرضے دینے کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔
سمیڈا کے بزنس پلان سے متعلق اجلاس میں کہا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز اور سمیڈا کے منتخب بورڈ ارکان نے شرکت کی۔
اس موقع پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کےلیے آئندہ 3 سال کا روڈ میپ پیش کیا گیا، وزیراعظم نے قابل عمل اور موثر پلان تشکیل دینے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پذیرائی کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کاروبار کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافے کی استعداد موجود ہے۔
اجلاس کےشرکاء کو ایس ایم ایز کو ملکی برآمدات میں شامل کرنے کےلیے حکمت عملی اور بزنس پلان میں شامل دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کی استعداد بڑھانے کےلیے 6 شہروں میں متعدد ورکشاپوں کا انعقاد کیا جاچکا ہے، چھوٹے، درمیانے کاروبار کو عالمی سطح پر مسابقت کےلیے تیار کرنے کےلیے تربیتی پروگرامز پر بھی کام جاری ہے۔
بریفنگ میں خواتین کو ایس ایم ای سیکٹر میں شرکت اور بھرپور کردار ادا کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی بتایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔