وینزویلا میں امریکی شب خون
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
تاریخ اپنے آپ کو دہرا نہیں رہی بلکہ شاید اب ’’تیل‘‘ کی بو پر لکھی جا رہی ہے۔ 3 جنوری 2026 کی صبح جب دنیا ابھی نئے سال کی خوشیوں میں مگن تھی، جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا کے افق پر امریکی طیاروں کی گھن گرج نے ایک نئے ارضی سیاسی زلزلے کی نوید سنائی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان نے نہ صرف دارالحکومت کراکاس کی گلیوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ بین الاقوامی قانون کے ان تمام ضابطوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جن کا پرچار دہائیوں سے کیا جا رہا تھا۔
امریکی افواج نے ایک برق رفتار فوجی آپریشن کے ذریعے نہ صرف وینزویلا کے دارالحکومت پر بمباری کی، بلکہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایک ’’منشیات فروش دہشت گرد‘‘ کے خلاف تھی۔ لیکن صدر ٹرمپ کے اس بیان نے اصل کہانی واضح کردی ہے کہ ’’اب امریکا وینزویلا کے انتظامات چلائے گا‘‘ اور امریکی تیل کمپنیاں وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی۔
وینزویلا اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری رہی، جہاں وینزویلا امریکا کو تیل فراہم کرنے والا ایک اہم ملک اور خطے میں اشتراکیت کے خلاف ایک مضبوط اتحادی تھا۔
1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کے شروع میں، امریکا یہاں سے روزانہ 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل خام تیل خریدتا تھا۔ وینزویلا کا تیل ’’بھاری‘‘ ہوتا ہے اور امریکی ریفائنریاں خاص طور پر اسی قسم کے تیل کو صاف کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں، اس لیے یہ تجارت دونوں کے لیے نہایت اہم تھی۔
تاہم، 1999 میں ہیوگو شاویز کے برسرِ اقتدار آنے سے اس رشتے میں دراڑیں آنا شروع ہوئیں۔ شاویز نے ’’بولیوین انقلاب‘‘ کے تحت امریکا مخالف خارجہ پالیسی اپنائی اور تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لے لیا، جس سے امریکی مفادات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ 2013 میں نکولس مادورو کے صدر بننے کے بعد یہ تعلقات دشمنی میں بدل گئے۔
امریکا نے مادورو حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تیل کی صنعت پر سخت ترین پابندیاں عائد کردیں تاکہ حکومت کو معاشی طور پر مفلوج کیا جاسکے۔ 2018 تک درآمدات کم ہو کر 5 لاکھ بیرل رہ گئیں اور 2019 کی پابندیوں کے بعد یہ تجارت تقریباً ختم ہوگئی۔ اگرچہ 2023 اور 2024 میں امریکی کمپنی ’شیورون‘ کو محدود پیمانے پر تیل نکالنے کی اجازت دی گئی، لیکن جنوری 2026 کے فوجی آپریشن نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔
اب امریکا نے وینزویلا کے ساحلوں کی مکمل ناکہ بندی کردی ہے اور وہ وہاں کے تیل کے شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے اپنی کمپنیوں کے ذریعے اسے دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم کی جاسکیں۔
امریکا کا موقف ہے کہ مادورو حکومت منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھی اور ان پر 50 ملین ڈالر کا انعام اس کارروائی کا قانونی جواز ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو اس طرح گرفتار کرنا بین الاقوامی سفارتی آداب اور خود مختاری کے منافی نہیں؟
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، اور عالمی توانائی کی منڈی کے اتار چڑھاؤ نے واشنگٹن کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ ’جمہوریت کی بحالی‘ کے پردے میں ان وسائل تک براہ راست رسائی حاصل کرے۔
یہ کوئی اچانک ہوا واقعہ نہیں تھا۔ 2025 سے جاری بحری ناکہ بندی اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ روس، فرانس، کیوبا اور میکسیکو جیسے ممالک نے اسے ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دے کر مذمت کی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ فی الحال طاقت کا پلڑا یکطرفہ طور پر امریکا کے حق میں ہے۔ اقوام متحدہ کی تشویش بھی روایتی بیان بازی سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتی۔
وینزویلا کا موجودہ منظرنامہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس قدرتی وسائل تو ہیں لیکن وہ داخلی طور پر کمزور ہوں، وہ ہمیشہ نشانے پر رہتے ہیں۔ آج مادورو نیویارک کی کسی عدالت میں کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، لیکن تاریخ کے کٹہرے میں یہ سوال ہمیشہ رہے گا کہ کیا یہ عالمی امن کی کوشش تھی یا محض تیل کے کنوؤں پر قبضے کی ایک جدید مہم؟
اگر ریاستیں اپنے عوام کو خوشحال اور متحد نہ رکھ سکیں، تو بیرونی طاقتیں ’منتقلی‘ کے نام پر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے میں دیر نہیں لگاتیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے تیل کے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم