دبئی: جعلی ورک ویزا اسکیم پر فراڈ، پولیس وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
دبئی(ویب ڈیسک) دبئی پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن کے اینٹی فراڈ سینٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “ویزے کی فراڈ آفرز” کے ذریعے لوگوں سے پیسہ لوٹا جا رہا ہے، اس قسم کے دھوکہ دہی کے طریقوں سے بچنے کے لیے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
دبئی پولیس نے تنبیہ کی ہے کہ جعلی ویزا اسپانسرشپ کے جھوٹے وعدے کرنے والوں سے ہوشیار رہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑی تعداد میں فراڈیے روزگار کے لالچ میں لوگوں سے پیسہ بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی پیشکشوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
دبئی پولیس نے واضح کیا ہے کہ دبئی میں نوکری صرف سرکاری چینلز اور قانونی طور پر لائسنس یافتہ ریکروٹمنٹ اداروں کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ غیر قانونی طریقوں اور گارنٹی ویزے کی پیشکش کرنے والوں سے بالخصوص ہوشیار رہیں۔دبئی پولیس نے کہا ہے کہ اگر آپ جعلی ویزا اسکیم کا شکار ہو جائیں تو فوراً پولیس سے رابطہ کریں اور اس بات کی اطلاع دیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کوئی مشکوک ویزا آفر آن لائن نظر آئے تو فوراً اسے رپورٹ کریں تاکہ کوئی اور شخص ’جعلی ویزا فراڈ ‘ کا شکار نہ ہو۔پولیس نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی ویزا کی پیشکش پر ادائیگی کرنے سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی فراڈ سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔