آئی پی ایس او ایس سروے: 86 فیصد پاکستانی 2026 کے بارے میں پرامید
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
عالمی مارکیٹ ریسرچ کمپنی آئی پی ایس او ایس کے حالہ سروے پاکستان کے عوام کی بڑی اکثریت سال 2026 کے بارے میں پُرامید نظر آتی ہے تاہم سیاسی، سماجی اور ڈیجیٹل رویوں میں نمایاں تبدیلیوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں، وزیراعظم
سروے کے نتائج کے مطابق 86 فیصد پاکستانیوں نے سنہ 2026 کے حوالے سے مجموعی طور پر امید کا اظہار کیا ہے جبکہ 63 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ملک میں سیاسی تسلسل برقرار رہے گا۔
سوشل میڈیا اور سماجی روابطسروے میں ڈیجیٹل رجحانات سے متعلق دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
84 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ سال 2026 میں بالمشافہ ملاقاتوں کے بجائے آن لائن سماجی روابط کو ترجیح دیں گے تاہم اس کے برعکس 49 فیصد افراد نے سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
خواتین کی قیادت میں اضافہسروے کے مطابق 70 فیصد پاکستانیوں کو توقع ہے کہ سنہ 2026 میں ملک میں خواتین کی قیادت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا جو سماجی رویوں میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
اہداف اور قراردادیںاعداد و شمار کے مطابق 75 فیصد پاکستانیوں نے سال 2026 کے لیے نئے اہداف اور قراردادیں ترتیب دی ہیں، جبکہ گزشتہ سال 2025 کے لیے یہ شرح 50 فیصد تھی۔
مزید پڑھیے: 2035 تک معاشی ترقی 6فیصد، برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، احسن اقبال
سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ گزشتہ سال قراردادیں بنانے والوں میں سے 60 فیصد افراد اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
سنہ 2026 کے لیے سب سے زیادہ ترجیح دیے جانے والے اہداف میں
کیریئر (43 فیصد) اور مالی مقاصد (34 فیصد) سرفہرست ہیں۔
کرکٹ اور سیاست پر رائےسروے کے مطابق 59 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ سال 2026 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
دوسری جانب 58 فیصد افراد کا خیال ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان سنہ 2026 میں بھی جیل میں رہیں گے۔
مزید پڑھیں: معاشی ترقی کے لیے نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنا ہوں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ماہرین کے مطابق یہ سروے پاکستانی معاشرے میں امید، حقیقت پسندی اور بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی رجحانات کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی پی ایس او ایس سروے پاکستان پاکستان کی معاشی ترقی پاکستان میں خوشحالی پاکستانی پرامید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی ایس او ایس سروے پاکستان پاکستان کی معاشی ترقی پاکستان میں خوشحالی پاکستانی پرامید فیصد پاکستانیوں فیصد افراد کے مطابق سال 2026 کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔