ہتھکڑی لگے اور لنگڑاتے وینزویلا کے صدر کو امریکی عدالت لے جایا گیا؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو نیویارک عدالت میں پیش کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے اور اس سے قبل انھیں ہتھکڑی لگاکر سڑکوں پر گھمایا بھی گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو صدر ٹرمپ کے حکم پر ان کے صدارتی محل سے رات کو سوتے ہوئے اہلیہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔
نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی اسپیشل فورسز نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر وینزویلا سے نیویارک منتقل کیا تھا جہاں ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔
آج وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا ہے جہاں انھیں منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔
امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق نکولس مادورو کو ڈاؤن ٹاؤن مین ہیٹن ہیلی پورٹ پر پہنچایا گیا جہاں سے انھیں ڈینیئل پیٹرک موئنہن یونائیٹڈ اسٹیٹس کورٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔
اس سے قبل انھیں ہتھکڑی لگا کر امریکا کی سڑکوں پر بھی گھمایا گیا جب کہ وہ لنگڑا کر چل رہے تھے اور ان کے آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے پٹی بھی بندھی ہوئی تھی۔
وائرل ویڈیوز میں معزول صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس بھی ان کے ہمراہ دکھائی دیں۔
امریکا نے یہ ہتک آمیز سلوک اس کے باوجود کیا کہ جب گزشتہ روز وینزویلا کی عبوری حکمراں ڈیلسے روڈریگز نے اپنے ابتدائی سخت موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی تھی۔
وینزویلا کے تعاون کی پیشکش کو خود امریکا نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا تھا لیکن آج گرفتار صدر کے ساتھ حسن سلوک نہیں برتا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر نکولس مادورو نکولس مادورو کو وینزویلا کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔