کراچی ملک کا انتہائی اہم شہر ہے اسے تھریٹس موجود ہیں، وزیر داخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی:
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران سیکیورٹی ایجنسیز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
مختلف چینلز پر آڈیو بیپرز دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی/سیکیورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں پہلے ایک دہشت گرد گرفتار کیا گیا تھا جس کی نشاندہی پر اس کے مزید دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، اگرچہ دہشت گردوں کا پورا نیٹ ورک تاحال مکمل طور پر قانون کی گرفت میں نہیں آیا تاہم جس طرح ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں،سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کر رہی ہیں،اس سے یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ بہت جلد اس نیٹ ورک کے تمام کارندے گرفتار کر لیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ائیرپورٹ پر چائنیز شہریوں کے افسوسناک واقعے کے بعد سے تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ہائی الرٹ ہیں اور مختلف اوقات میں دہشت گرد عناصر کی کمر توڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اسی تسلسل میں بلوچستان میں بھی سیکیورٹی ادارے، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور آئی بی دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر برسرپیکار ہیں۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ آپریشنز کے تحت گرفتاریوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ تھریٹس موجود ہیں اور کراچی پاکستان کا ایک انتہائی اہم شہر ہے جو نہ صرف تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہے بلکہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی بندرگاہ بھی رکھتا ہے، جس کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیںقانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اور بڑا کارنامہ؛ کراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ الحمدللہ ائیرپورٹ حملے کے بعد سے کراچی میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں،سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحہ متحرک ہیں اور بروقت کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کے سویلین اہداف تھے تاہم مزید تفتیش اور انٹروگیشن کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کن علاقوں یا مقامات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی بروقت گرفتاری سے کراچی ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچ گیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی مسلسل جدوجہد، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارے شہر، صوبے اور عوام کے تحفظ کے لیے آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ سندھ سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔