سال کے آغاز پر موسیقاروں کے فن کو سراہنے کےلیے تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی شوبز تقریبات بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ شروع ہوگئی ہیں۔
2026 میں شوبز انڈسٹری کی رونقوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، نئے سال کی پہلی ہی تقریب نے فن و ثقافت کے دلدادہ حلقوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔
لاہور کے ایک مقامی فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب میں موسیقی، فلم اور شوبز کی نامور شخصیات ایک ہی چھت تلے جمع ہوئیں تو دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ گئے۔
شہنشاہ غزل استاد غلام علی کی شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے جبکہ شازیہ منظور، نشو بیگم، عارفہ صدیقی، میگھا، انور رفیع، استاد طافو، تنویر آفریدی، قنبر علی شاہ، رومیسہ اور دیگر ممتاز فنکاروں کی موجودگی نے اس ایونٹ کو یادگار بنادیا۔
یہ تقریب ای ایم آئی کے زیر اہتمام لاہور کے مقامی فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوئی جس میں موسیقی کے عظیم معماروں اور مرحوم فنکاروں کی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا گیا، ان فنکاروں میں نامور نغمہ نگار خواجہ پرویز، استاد طافو خان، ایم اشرف اور معروف شاعر جمیل الدین عالی شامل تھے۔
تقریب میں موسیقی کی محفل بھی سجی جہاں معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ تنویر آفریدی، علشباہ جعفری اور شازیہ منظور کی پرفارمنس نے سامعین کو مسحور کردیا اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
تقریب کے دوران ان فنکاروں اور موسیقاروں کو خصوصی طور پر سراہا گیا جنہوں نے سالہا سال فن و ادب کی خدمت کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں نقد انعامات بھی تقسیم کئے گئے ۔ فنکاروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف فنکاروں کے حوصلے بلند کرتی ہیں بلکہ موسیقی اور ثقافت کے تسلسل کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر