سوشل میڈیا پوسٹس کیس، ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی سرکاری گواہ پر جرح مکمل
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق متنازع مقدمے میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اہم سرکاری گواہ پر جرح مکمل کرلی گئی۔ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کے افسر انیس الرحمان مقدمے میں کلیدی گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ان کے شوہر سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
سماعت کے دوران انیس الرحمان نے لاپتا افراد، حقوق کے کارکنوں سے مذاکرات اور فوج پر تنقید سے متعلق موجودہ وزرا اور ایک سابق فوجی افسر کے بیانات پر رائے دینے سے انکار کیا۔ ان بیانات کا حوالہ ہادی علی چٹھہ نے دیا، جنہوں نے ایمان مزاری کے ہمراہ صفائی کی جانب سے جرح کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ملک میں دہشتگردی میں مسلح افواج ملوث ہیں۔
مقدمے کی ایف آئی آر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت درج کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سیکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مسلح افواج کو غیر موثر دکھایا۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قلابازیاں جاری
سماعت کی صدارت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ دوران سماعت ہادی علی چٹھہ نے 31 جولائی 2025 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں بلوچستان میں حقوق سے متعلق احتجاجی تحریک، وفاقی کمیٹی سے مذاکرات اور پنجاب حکومت کی حمایت سے متعلق بیانات شامل تھے۔
گواہ سے ان امور پر رائے طلب کی گئی مگر انہوں نے یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ صرف اسی صورت میں رائے دیں گے جب معاملہ باضابطہ طور پر ان کے سامنے آئے۔
عدالت میں مختلف ویڈیوز بھی چلائی گئیں جن میں ایک ویڈیو میں نعرے بازی سنائی دی جبکہ ایک اور ویڈیو میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے مناظر دکھائے گئے اور پولیس کی موجودگی نظر آئی۔ ان تمام مواد پر بھی گواہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ صرف سرکاری حیثیت میں جائزہ لینے کے بعد ہی رائے دے سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ جبری گمشدگیاں ملک میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں یا اس حوالے سے ریاستی پالیسی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کی جج سے تلخ کلامی
جرح کے دوران انیس الرحمان نے بتایا کہ ان کے پاس کمپیوٹر سائنس میں ایم فل کی ڈگری ہے اور انہوں نے سائبر کرائم، پیکا اور فوجداری قوانین سے متعلق تربیت حاصل کی ہے، تاہم جبری گمشدگیوں کے معاملات پر کوئی تربیت نہیں لی۔ ریاست کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ریاست سے مراد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایمان مزاری یا ہادی علی چٹھہ کی کسی پوسٹ میں صریح ریاست مخالف مواد موجود ہے تو انہوں نے کہا کہ زیر غور مواد ایک بیانیے سے متعلق ہے اور اس میں ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کا ذکر نہیں، انہوں نے اپنی رپورٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ڈس انفارمیشن ویکٹر کی وضاحت کرنے سے بھی معذرت کی۔
گواہ نے کہا کہ زیر بحث مواد میں بعض پوسٹس کو کالعدم تنظیموں کی حمایت کے زمرے میں رکھا گیا، تاہم جب ایک مخصوص پوسٹ پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اس میں کسی کالعدم تنظیم کا نام واضح طور پر موجود نہیں تھا، لیکن ان کے مطابق وہ پوسٹ پھر بھی ریاست کے خلاف تھی۔
عدالت نے فریقین کی جرح مکمل ہونے کے بعد سماعت 7 جنوری تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمان مزاری ٹوئٹس سوشل میڈیا پوسٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری ٹوئٹس سوشل میڈیا پوسٹس سوشل میڈیا پوسٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ انہوں نے کہا کہ اور ان یہ بھی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔