سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق متنازع مقدمے میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اہم سرکاری گواہ پر جرح مکمل کرلی گئی۔ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کے افسر انیس الرحمان مقدمے میں کلیدی گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ان کے شوہر سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

سماعت کے دوران انیس الرحمان نے لاپتا افراد، حقوق کے کارکنوں سے مذاکرات اور فوج پر تنقید سے متعلق موجودہ وزرا اور ایک سابق فوجی افسر کے بیانات پر رائے دینے سے انکار کیا۔ ان بیانات کا حوالہ ہادی علی چٹھہ نے دیا، جنہوں نے ایمان مزاری کے ہمراہ صفائی کی جانب سے جرح کی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ملک میں دہشتگردی میں مسلح افواج ملوث ہیں۔

 مقدمے کی ایف آئی آر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت درج کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سیکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مسلح افواج کو غیر موثر دکھایا۔

یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قلابازیاں جاری

سماعت کی صدارت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ دوران سماعت ہادی علی چٹھہ نے 31 جولائی 2025 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں بلوچستان میں حقوق سے متعلق احتجاجی تحریک، وفاقی کمیٹی سے مذاکرات اور پنجاب حکومت کی حمایت سے متعلق بیانات شامل تھے۔

 گواہ سے ان امور پر رائے طلب کی گئی مگر انہوں نے یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ صرف اسی صورت میں رائے دیں گے جب معاملہ باضابطہ طور پر ان کے سامنے آئے۔

عدالت میں مختلف ویڈیوز بھی چلائی گئیں جن میں ایک ویڈیو میں نعرے بازی سنائی دی جبکہ ایک اور ویڈیو میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے مناظر دکھائے گئے اور پولیس کی موجودگی نظر آئی۔ ان تمام مواد پر بھی گواہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ صرف سرکاری حیثیت میں جائزہ لینے کے بعد ہی رائے دے سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ جبری گمشدگیاں ملک میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں یا اس حوالے سے ریاستی پالیسی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کی جج سے تلخ کلامی

جرح کے دوران انیس الرحمان نے بتایا کہ ان کے پاس کمپیوٹر سائنس میں ایم فل کی ڈگری ہے اور انہوں نے سائبر کرائم، پیکا اور فوجداری قوانین سے متعلق تربیت حاصل کی ہے، تاہم جبری گمشدگیوں کے معاملات پر کوئی تربیت نہیں لی۔ ریاست کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ریاست سے مراد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایمان مزاری یا ہادی علی چٹھہ کی کسی پوسٹ میں صریح ریاست مخالف مواد موجود ہے تو انہوں نے کہا کہ زیر غور مواد ایک بیانیے سے متعلق ہے اور اس میں ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کا ذکر نہیں، انہوں نے اپنی رپورٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ڈس انفارمیشن ویکٹر کی وضاحت کرنے سے بھی معذرت کی۔

گواہ نے کہا کہ زیر بحث مواد میں بعض پوسٹس کو کالعدم تنظیموں کی حمایت کے زمرے میں رکھا گیا، تاہم جب ایک مخصوص پوسٹ پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اس میں کسی کالعدم تنظیم کا نام واضح طور پر موجود نہیں تھا، لیکن ان کے مطابق وہ پوسٹ پھر بھی ریاست کے خلاف تھی۔

عدالت نے فریقین کی جرح مکمل ہونے کے بعد سماعت 7 جنوری تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایمان مزاری ٹوئٹس سوشل میڈیا پوسٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری ٹوئٹس سوشل میڈیا پوسٹس سوشل میڈیا پوسٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ انہوں نے کہا کہ اور ان یہ بھی

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی