سوہا علی خان کا والد منصور علی خان پٹودی کو سالگرہ پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی چھوٹی بہن اداکارہ سوہا علی خان نے اپنے مرحوم والد اور سابق بھارتی کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کی سالگرہ کے موقع پر جذباتی پیغام شیئر کیا ہے، انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ منصور علی خان پٹودی اگر حیات ہوتے تو پیر 5 جنوری 2026 کو 85 برس کے ہو جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: ارب پتی خاندان سے تعلق کے باوجود سوہا علی خان نے کرائے کے مکان میں زندگی کیوں گزاری؟
سوہا علی خان نے انسٹاگرام پر ایڈن گارڈنز کی تصاویر کے ساتھ لکھا کہ وہ اپنے والد کی سالگرہ پر اس مقام پر کھڑی ہونا چاہتی تھیں جہاں کرکٹ آج بھی انہیں یاد کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایڈن گارڈنز آج خالی ضرور ہے مگر منصور علی خان پٹودی کے لیے کبھی خاموش نہیں ہوتا۔
View this post on Instagram
A post shared by Soha (@sakpataudi)
انہوں نے کہا کہ یہ وہ میدان ہے جہاں ان کے والد نے بھارت کی قیادت کی اور خاص طور پر دسمبر 1974 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخی ٹیسٹ میچ یادگار رہا۔ اس میچ میں اینڈی رابرٹس کی گیند چہرے پر لگنے سے ان کی گال کی ہڈی فریکچر ہوگئی تھی، وہ زخمی حالت میں میدان سے باہر گئے مگر دوبارہ واپس آ کر ٹیم کی قیادت کی اور بھارت کو 85 رنز سے شاندار فتح دلائی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سیف علی خان پٹودی محل کو میوزیم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟
سوہا علی خان کے مطابق ایڈن گارڈنز کا وہ ٹیسٹ میچ بھارتی کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین فتوحات میں شمار ہوتا ہے جو حوصلے اور جرات مندانہ قیادت کی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیڈیم آج بھی کرکٹر منصور علی خان پٹودی کو یاد کرتا ہے جبکہ وہ اپنے والد کو یاد کرتی ہیں، اور دونوں کی یادیں اسی میدان سے جڑی ہیں۔
واضح رہے کہ منصور علی خان پٹودی، جو ٹائیگر پٹودی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، 70 برس کی عمر میں سانس کی بیماری کے باعث انتقال کر گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اداکارہ ایڈن گارڈنز بھارت سالگرہ سویا علی خان سیف علی خان کرکٹر منصور علی خان پٹودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکارہ ایڈن گارڈنز بھارت سالگرہ سویا علی خان سیف علی خان کرکٹر منصور علی خان پٹودی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔