امریکی حملے کی ایک وجہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا حالیہ اندازِ سیاست بھی ہے جس میں رقص، موسیقی اور طنزیہ جملے شامل تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے متعدد بار وینزویلا کے صدر کو سخت پیغامات بھیجے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پابندیاں عائد کیں، وینزویلا کی کشتیوں کو متعدد بار نشانہ بنایا جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں اور ڈرانا دھمکانا بھی شامل رہا ہے۔

ان سب کے باوجود صدر وینزویلا نکولس مادورو نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات اور اقدامات کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے زرا بھی پریشان نہ ہوئے۔

صدر نکولس مادورو ہمہ وقت مطمئن نظر آتے اور عوامی جلسوں میں ’’ نو وار ۔۔ یس پیس‘‘ نغمے پر مکے لہراتے رقص کرتے۔ ان کی اہلیہ بھی ان کا ساتھ دیتیں۔

وینزویلا کے صدر نے اپنی پُرجوش تقاریر میں بھی کسی ندامت، شرمندگی یا بزدلی کے بجائے طنزیہ انداز اپنایا اور ٹرمپ کو بھی نشانہ بنایا۔

نکولس مادورو کا یہ بے خوف انداز بالآخر امریکی انتظامیہ کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوگیا کہ اب سخت کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔

وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ نے گرفتاری سے قبل کئی ہفتوں تک اپنے سرکاری کمپاؤنڈ سے گانے اور ڈانس کے مظاہرے جاری رکھے۔

3 جنوری کو امریکی خصوصی دستوں کی کارروائی سے پہلے یہ سرگرمیاں واشنگٹن میں بغور دیکھی جا رہی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مادورو اپنے ڈانس کے دوران کئی بار امریکی صدر ٹرمپ کے مشہور فسٹ پمپنگ اسٹائل کی نقل کرتے نظر آئے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں نے ان مناظر کو واشنگٹن کے صبر کا امتحان قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ رویہ امریکی انتباہات کی کھلی تضحیک تھا۔

خاص طور پر اس وقت جب مادورو نے دسمبر کے آخر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے استعفیٰ اور ترکی میں جلاوطنی کی پیشکش مسترد کر دی، اور اس کے فوراً بعد الیکٹرانک بیٹ پر رقص کرتے ہوئے انگریزی میں کہا: “No crazy war”۔

امریکی حکام کے مطابق یہی لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ہفتے کی صبح امریکی خصوصی دستوں نے کراکس میں اچانک کارروائی کی، مادورو اور سیلیا فلوریس کو ان کے رہائشی حصے سے حراست میں لیا اور نیویارک منتقل کر دیا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان