ایک ذہنی مریض نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایک ذہنی طور پر غیر متوازن شخص نے ان کے اوہائیو میں واقع گھر میں گھسنے کی کوشش کی تاہم واقعے کے وقت وہ اور ان کا خاندان وہاں موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ، کھڑکیاں توڑ دی گئیں، مشتبہ شخص زیر حراست
جے ڈی وینس نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میری معلومات کے مطابق ایک شخص نے کھڑکیوں پر ہتھوڑے مار کر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سیکرٹ سروس اور سنسناٹی پولیس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے فوری کارروائی کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت پہلے ہی واشنگٹن ڈی سی واپس جا چکے تھے اور میڈیا سے درخواست کی کہ گھر کی کھڑکیوں میں بننے والے سوراخوں کی تصاویر شائع نہ کی جائیں۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واقعے پر امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: ’گلے لگانا میری فطرت ہے‘، اریکا کرک کی جے ڈی وینس سے گلے ملنے پر وضاحت
یہ واقعہ امریکا میں منتخب سیاسی شخصیات کے خلاف پیش آنے والے حالیہ تشدد کے واقعات کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال جون میں ریاست مینیسوٹا کی ایک سینیئر ڈیموکریٹ رکن اسمبلی اور ان کے شوہر کو ایک مسلح شخص نے ہلاک کر دیا تھا جسے حکام نے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا قتل قرار دیا تھا۔
I appreciate everyone's well wishes about the attack at our home.
We weren't even home as we had returned…
— JD Vance (@JDVance) January 5, 2026
اسی طرح اپریل میں پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جب وہ اور ان کا خاندان گھر میں موجود تھے۔
یہ واقعہ اکتوبر 2022 میں سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے سان فرانسسکو میں واقع گھر پر ہونے والے حملے سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں حملہ آور نے ان کے شوہر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی ’ہمارا معاملہ نہیں‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
امریکی حکام کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایسے واقعات پر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی کوشش کی گھر میں
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔