امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اوہائیو(ویب ڈیسک) حملے کے وقت خوش قسمتی سے نائب صدر اور ان کی اہلیہ گھر میں موجود نہیں تھیں۔امریکی ریاست اوہائیو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی نجی رہائش گاہ پر حملہ آور نے کھڑکی توڑ کر گھسنے کی کوشش کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور نے جھنجھلاہٹ کے عالم میں گھر کے پاس کھڑی سیکریٹ سروس کی کار کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔تاہم اس حملے کے وقت خوش قسمتی سے نائب صدر اور ان کے اہلِ خانہ گھر پر موجود نہیں تھے اور حملہ آور گھر میں گھسنے میں ناکام بھی رہا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نائب صدر کے گھر پر حملے کے فوری بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔مشتبہ ملزم سے حملے کے محرکات جاننے کے لیے ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ ذاتی نوعیت کا تھا یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا دیگر محرکات کارفرما تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کو اپنے عہدے کے باعث 24 گھنٹے سیکریٹ سروس کی سیکیورٹی حاصل ہوتی ہے۔
تاہم ان کی نجی رہائش گاہ پر سیکیورٹی کا انتظام ان کے سفری شیڈول اور موجودگی کے مطابق کم یا زیادہ کیا جاتا رہتا ہے۔
حکام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ نائب صدر اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے لائی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔