ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن/تہران: (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکہ اس پر ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے۔
مظاہرے اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور مہنگائی، اقتصادی بحران اور ایرانی ریال کی شدید گراوٹ کے باعث عوام سراپا احتجاج ہیں۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھتی ہے تو واشنگٹن شدید ردعمل دے گا۔
ایران میں یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں دکانداروں کی ہڑتال کے بعد شروع ہوئے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 12 افراد بشمول سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے حجم اور شدت کے لحاظ سے گزشتہ کئی برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں میں شامل ہیں، جو 2022-2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک سے بھی بڑے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور چین کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خاتمے، مسئلہ کشمیر کے حل پر زور پاکستان اور چین کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خاتمے، مسئلہ کشمیر کے حل پر زور جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، ڈریپ کے ریپڈ الرٹس جاری ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا فیض حمید کے بھائی نجف حمید پٹواری کے خلاف مقدمہ درج ، ایف آئی آر سب نیوز... سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ برقرار، ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور وینزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی دھمکیاں سابق جسٹس سید منصور علی شاہ کے صاحبزادہ کی دعوت ولیمہ، اعلی شخصیات کی شرکت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔