ایران کودھمکی اور وینزویلا پر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
3جنوری2026ء کی شام امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے حکم سے جنوبی امریکا کے مشہور ملک (وینزویلا) کے دارالحکومت ( کراکس) پر جس وحشت سے فوجی حملہ کیا گیا، یہ منظر دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا ۔ اِس فوجی حملے میں سیکڑوں امریکی کمانڈوز جدید ترین ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وینزویلا کے دارالحکومت میں اُترے ، صدارتی محل پر یلغار کی اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو (Nicolas Maduro) کو اُن کی اہلیہ سیلیا فلورز (Cilia Flores) سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ اب دونوں زیر تحویل میاں بیوی کو امریکا بھجوا دیا گیا ہے ۔ امریکی صدر بڑی رعونت اور تکبر سے اعلان کرتے سنائی دے رہے ہیں کہ گرفتار (Captured) جوڑے پر نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ وینزویلا پر امریکی حملے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اِس دُنیا میں جس کے پاس طاقت کی لاٹھی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہے ۔
اصول ، ضوابط ، عالمی قوانین کی اِس دُنیا میں نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی حیثیت ۔ وینزویلا پر اِس وقت کسی کی حکومت نہیں ہے۔ بحیرئہ کریبئن(Caribbean Sea ) کے کنارے واقع معدنی وسائل اور تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک اب عملی طور پر امریکی قبضے میں ہے۔ اِس مقبوضہ ملک کے جملہ تیل کے کنوئیں اب امریکی تحویل میں ہیں ۔ اور مغرورامریکی صدر کسی جھجک کے بغیر کہہ رہے ہیں کہ ’’جب ہم چاہیں گے،وینزویلا کی باگ ڈور کسی (نام نہاد) منتخب باڈی کے سپرد کر دیں گے‘‘ اور یہ کہ ’’ اب وینزویلا کے تیل بارے امریکی کمپنیاں فیصلے کریں گی۔‘‘
وینزویلا کے63سالہ معزول صدر کہنے کو تو ’’گرفتار‘‘ کیے گئے ہیں ، مگر حقیقی معنوں میں اُنہیں امریکیوں نے اغوا کیا ہے ۔ ساری دُنیا دَم سادھے یہ دلشکن منظر دیکھ رہی ہے ، مگر منہ سے کچھ بھی بولنے سے قاصر ہے ۔ کچھ ممالک اِس اقدام کی ہلکے سُروں میں مذمت کرکے مہر بہ لب ہو گئے ہیں ۔ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ امریکی فوجی طاقت و قوت کے سامنے کسی کو سر اُٹھانے اور ٹھہرنے کی ہمت ہے نہ سکت ۔ رُوس اور چین بڑی حد تک ، اپنے مالی و تجارتی مفادات کے پس منظر میں، وینزویلا کے دوست کہے جاتے تھے ، مگر اِس سانحہ کے بعد وہ بھی خاموش ہیں ۔
ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنے ! ہم نے اپنی زندگی میں یہ منظر دوسری بار دیکھا ہے کہ امریکا نے اپنی فوجی طاقت سے کسی بنی بنائی اور چلی چلائی حکومت کا خاتمہ بھی کیا اور اس کے صدر کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ امریکا نے (2003) میں عراقی صدر ، صدام حسین، کی حکومت کا فوجی قوت سے خاتمہ کیا اور پھر چند ہفتوں کے بعد ، بغداد سے کچھ فاصلے پر واقع، ایک زمین دوز کھڈے سے مفرور صدر صدام حسین کو نہائت توہین آمیز طریقے سے گرفتار کیا۔ صدام حسین پر امریکیوں نے اپنی مرضی کا مقدمہ چلایا ، اپنی مرضی کے جج رکھے ، اپنی مرضی کے الزامات عائد کیے اور پھر اپنی مرضی سے صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا ۔ اور دُنیا اِس ظلم کے خلاف کچھ بھی نہ بولی ۔
صدام حسین کے اقتدار اور ذات کے خاتمے کے لیے امریکا نے دو بڑے الزامات عائد کیے تھے: (1) عظیم تباہی کے ہتھیار (WMD) رکھے ہیں (2) عوامی و انسانی حقوق کی بے پناہ پامالی ۔ وینزویلا کے صدر کے اقتدار اور ذات کے خاتمے کے لیے بھی اب امریکی صدر نے 2ہی بڑے الزامات عائد کیے ہیں: (1) عظیم تباہی کے ہتھیار (2) منشیات فروشی!!دونوں جگہوں پر دو، دو الزامات عائدکرکے امریکا بس تیل ہتھیانا چاہتا تھا ۔ گذشتہ کئی برسوں سے وینزویلا کو گھیرنے کے لیے امریکا زمین ہموار کررہا تھا ۔ 2025 میں وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا (Maria Corina) کو امن کا نوبل انعام دلوانا بھی اِسی گھیرے کی ایک چال تھی افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کیا نوبل انعام دینے والے بھی امریکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں؟ اور اب عالمی میڈیا یہ بھی خبر دے رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کا اقتدار جن امریکا نواز عناصر کو سونپنے کا پروگرام بنا رہا ہے، اِن میں یہ محترمہ( ماریا کورینا) بھی شامل ہیں ۔ اب امریکی عزائم بھی واضح ہو گئے ہیں اور وینزویلا پر عائد کیے گئے جملہ الزامات کی قلعی بھی کھل گئی ہے ۔
بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی واشگاف اور آشکار ہوتی ہے کہ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، ایک ساتھ وینزویلا اور ایران پر الزامات کے طوفان کی بارش کرتے آرہے ہیں۔جب سے ایران میں امریکی حمائیت یافتہ (سابق ) بادشاہ کی حکومت کا تختہ اُلٹا گیا ہے ، تب سے امریکا ایرانی حکومتوں کے خاتمے کے لیے مسلسل کوشاں ہے ۔ مگر بسیار کوششوں اور سازشوں کے باوجود امریکا ایران میں اپنی مرضی و منشا کے مطابق رجیم چینج میں ایک بار بھی کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اِن امریکی سازشوں اور کوششوں کو45سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، لیکن امریکا کو مسلسل منہ کی کھانا پڑ رہی ہے ۔ امریکا نے ایران پر متنوع الزامات عائد کرکے دیکھ لیے ، ایران پر مختلف النوع لا تعداد پا بندیاں لگا کر دیکھ لیں، اسرائیل کو ایران کے خلاف ششکار کے بھی دیکھ لیا، مگر امریکی عزائم و اہداف کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے ۔ اِس پس منظر میں پچھلے45برسوں میں تمام ایرانی انقلابی حکمران بجا طور پر شاباشی کے مستحق ہیں ۔
اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے ساڑھے چار عشروں میں مختلف امریکی صدور نے ایران پر جو بے انتہا اور سخت معاشی پابندیاں عائد کی ہیں، ان سے عام ایرانی کی زندگی بے انتہا مالی ، سماجی اور معاشی مشکلات کا شکار بنی ہے۔ ایرانی انقلابی حکومتوں نے اپنی محدود معاشی استطاعت کے مطابق اپنے عوام کی دستگیری کرنے کی مقدور بھر کوششیں بھی کی ہیں، مگر امریکی ظالمانہ پابندیوں کے کارن ایرانی عوام ریلیف محسوس نہیں کررہے ۔
ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے سبب پاکستان بھی متاثر ہُوا ہے اور ہنوذ ہو رہا ہے ۔لیکن اِن مشکلات اور دشواریوں کے باوجود پاکستانی عوام کے دل ایرانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔اِس کا ایک تازہ اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ جون2025 میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور یہ جنگ 12روز تک جاری رہی تو اِس پورے عرصے میں پاکستان اور پاکستانی عوام پورے قد ، پورے جذبوں اورپورے اخلاص کے ساتھ برادر اسلامی ایران کے ساتھ کھڑے رہے ۔ اور جب خود امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ایرانی تنصیبات پر میزائل گرائے ، تب بھی پاکستانیوں کی ہمدردیاں اور محبتیں ایران ہی کے ساتھ تھیں ۔ ہم دونوں ہمسایہ و برادر ممالک کے چھوٹے موٹے اختلافات تو ہو سکتے ہیں مگر طاغوتی قوتیں بھی جانتی ہیں کہ جب بھی اسلامی ایران پر حملہ ہوگا ، پاکستانی قوم کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہوں گی ۔
لیکن وحشتناک بات یہ ہے کہ امریکا اور امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، ایران سے دشمنی سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ۔ امریکا کی جانب سے ایران پر بے پناہ اور ناقابلِ برداشت معاشی پابندیوں کے کارن ایرانی عوام شدید مہنگائی ، ڈالر کے مقابل ایرانی ریال کی تیزی سے گراوٹ ، توانائی کے داموں میں اضافہ ، بیروزگاری اور پانی کی اشد قلّت ایسے بڑے مسائل و مصائب کا شکار بن رہے ہیں ۔ اِسی دباؤ کی بنیاد پر ایران کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاجات بھی ہُوئے ہیں ۔ اِن احتجاجات کو مزید بھڑکانے کے لیے امریکی ہاتھ بھی اپنے کام دکھا رہے ہیں ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2جنوری2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو ملفوف انداز میں نہیں ، بلکہ کھلے الفاظ میں دھمکی دی ہے ۔ یہ دھمکی ایرانی عوام کو اپنی حکومت اور نظم کے خلاف مشتعل کرنے کی قابلِ مذمت کوشش ہے ۔ عالمِ اسلام بخوبی سمجھتا ہے کہ اِس دھمکی کے عقب میں اسرائیل کے ایران مخالف عزائم بھی پوشیدہ ہیں ۔
وینزویلا کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ہاتھ دکھایا ہے، یہ دراصل ایران کو اشارتاً دھمکی بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ دیکھ کر مگر خوشی اور اطمینان ہوتا ہے کہ معززو محترم ایرانی قیادت نے امریکی صدر کی دھمکی کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے جرأت و استقامت سے اِس کا جواب دیا ہے ۔صدرِ ایران ، جناب مسعود پزشکیان، ٹھنڈے ، مگر مستحکم لہجے میں اور حکمت کے ساتھ ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی مستحسن کوشش بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الزامات عائد وینزویلا پر وینزویلا کے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر اپنی مرضی امریکا نے ایران کے عائد کیے نے ایران ایران پر نے اپنی کے ساتھ رہے ہیں عائد کی کے خلاف ہے کہ ا کے لیے ہیں کہ بھی کی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔