Express News:
2026-07-24@07:53:31 GMT

ایران کودھمکی اور وینزویلا پر حملہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

3جنوری2026ء کی شام امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے حکم سے جنوبی امریکا کے مشہور ملک (وینزویلا) کے دارالحکومت ( کراکس) پر جس وحشت سے فوجی حملہ کیا گیا، یہ منظر دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا ۔ اِس فوجی حملے میں سیکڑوں امریکی کمانڈوز جدید ترین ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وینزویلا کے دارالحکومت میں اُترے ، صدارتی محل پر یلغار کی اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو (Nicolas Maduro) کو اُن کی اہلیہ سیلیا فلورز (Cilia Flores) سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ اب دونوں زیر تحویل میاں بیوی کو امریکا بھجوا دیا گیا ہے ۔ امریکی صدر بڑی رعونت اور تکبر سے اعلان کرتے سنائی دے رہے ہیں کہ گرفتار (Captured) جوڑے پر نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ وینزویلا پر امریکی حملے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اِس دُنیا میں جس کے پاس طاقت کی لاٹھی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہے ۔

اصول ، ضوابط ، عالمی قوانین کی اِس دُنیا میں نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی حیثیت ۔ وینزویلا پر اِس وقت کسی کی حکومت نہیں ہے۔ بحیرئہ کریبئن(Caribbean Sea ) کے کنارے واقع معدنی وسائل اور تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک اب عملی طور پر امریکی قبضے میں ہے۔ اِس مقبوضہ ملک کے جملہ تیل کے کنوئیں اب امریکی تحویل میں ہیں ۔ اور مغرورامریکی صدر کسی جھجک کے بغیر کہہ رہے ہیں کہ ’’جب ہم چاہیں گے،وینزویلا کی باگ ڈور کسی (نام نہاد) منتخب باڈی کے سپرد کر دیں گے‘‘ اور یہ کہ ’’ اب وینزویلا کے تیل بارے امریکی کمپنیاں فیصلے کریں گی۔‘‘

 وینزویلا کے63سالہ معزول صدر کہنے کو تو ’’گرفتار‘‘ کیے گئے ہیں ، مگر حقیقی معنوں میں اُنہیں امریکیوں نے اغوا کیا ہے ۔ ساری دُنیا دَم سادھے یہ دلشکن منظر دیکھ رہی ہے ، مگر منہ سے کچھ بھی بولنے سے قاصر ہے ۔ کچھ ممالک اِس اقدام کی ہلکے سُروں میں مذمت کرکے مہر بہ لب ہو گئے ہیں ۔ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ امریکی فوجی طاقت و قوت کے سامنے کسی کو سر اُٹھانے اور ٹھہرنے کی ہمت ہے نہ سکت ۔ رُوس اور چین بڑی حد تک ، اپنے مالی و تجارتی مفادات کے پس منظر میں، وینزویلا کے دوست کہے جاتے تھے ، مگر اِس سانحہ کے بعد وہ بھی خاموش ہیں ۔

ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنے ! ہم نے اپنی زندگی میں یہ منظر دوسری بار دیکھا ہے کہ امریکا نے اپنی فوجی طاقت سے کسی بنی بنائی اور چلی چلائی حکومت کا خاتمہ بھی کیا اور اس کے صدر کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ امریکا نے (2003) میں عراقی صدر ، صدام حسین، کی حکومت کا فوجی قوت سے خاتمہ کیا اور پھر چند ہفتوں کے بعد ، بغداد سے کچھ فاصلے پر واقع، ایک زمین دوز کھڈے سے مفرور صدر صدام حسین کو نہائت توہین آمیز طریقے سے گرفتار کیا۔ صدام حسین پر امریکیوں نے اپنی مرضی کا مقدمہ چلایا ، اپنی مرضی کے جج رکھے ، اپنی مرضی کے الزامات عائد کیے اور پھر اپنی مرضی سے صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا ۔ اور دُنیا اِس ظلم کے خلاف کچھ بھی نہ بولی ۔

صدام حسین کے اقتدار اور ذات کے خاتمے کے لیے امریکا نے دو بڑے الزامات عائد کیے تھے: (1) عظیم تباہی کے ہتھیار (WMD) رکھے ہیں (2) عوامی و انسانی حقوق کی بے پناہ پامالی ۔ وینزویلا کے صدر کے اقتدار اور ذات کے خاتمے کے لیے بھی اب امریکی صدر نے 2ہی بڑے الزامات عائد کیے ہیں: (1) عظیم تباہی کے ہتھیار (2) منشیات فروشی!!دونوں جگہوں پر دو، دو الزامات عائدکرکے امریکا بس تیل ہتھیانا چاہتا تھا ۔ گذشتہ کئی برسوں سے وینزویلا کو گھیرنے کے لیے امریکا زمین ہموار کررہا تھا ۔ 2025 میں وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا (Maria Corina) کو امن کا نوبل انعام دلوانا بھی اِسی گھیرے کی ایک چال تھی افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کیا نوبل انعام دینے والے بھی امریکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں؟ اور اب عالمی میڈیا یہ بھی خبر دے رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کا اقتدار جن امریکا نواز عناصر کو سونپنے کا پروگرام بنا رہا ہے، اِن میں یہ محترمہ( ماریا کورینا) بھی شامل ہیں ۔ اب امریکی عزائم بھی واضح ہو گئے ہیں اور وینزویلا پر عائد کیے گئے جملہ الزامات کی قلعی بھی کھل گئی ہے ۔

بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی واشگاف اور آشکار ہوتی ہے کہ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، ایک ساتھ وینزویلا اور ایران پر الزامات کے طوفان کی بارش کرتے آرہے ہیں۔جب سے ایران میں امریکی حمائیت یافتہ (سابق ) بادشاہ کی حکومت کا تختہ اُلٹا گیا ہے ، تب سے امریکا ایرانی حکومتوں کے خاتمے کے لیے مسلسل کوشاں ہے ۔ مگر بسیار کوششوں اور سازشوں کے باوجود امریکا ایران میں اپنی مرضی و منشا کے مطابق رجیم چینج میں ایک بار بھی کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اِن امریکی سازشوں اور کوششوں کو45سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، لیکن امریکا کو مسلسل منہ کی کھانا پڑ رہی ہے ۔ امریکا نے ایران پر متنوع الزامات عائد کرکے دیکھ لیے ، ایران پر مختلف النوع لا تعداد پا بندیاں لگا کر دیکھ لیں، اسرائیل کو ایران کے خلاف ششکار کے بھی دیکھ لیا، مگر امریکی عزائم و اہداف کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے ۔ اِس پس منظر میں پچھلے45برسوں میں تمام ایرانی انقلابی حکمران بجا طور پر شاباشی کے مستحق ہیں ۔

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے ساڑھے چار عشروں میں مختلف امریکی صدور نے ایران پر جو بے انتہا اور سخت معاشی پابندیاں عائد کی ہیں، ان سے عام ایرانی کی زندگی بے انتہا مالی ، سماجی اور معاشی مشکلات کا شکار بنی ہے۔ ایرانی انقلابی حکومتوں نے اپنی محدود معاشی استطاعت کے مطابق اپنے عوام کی دستگیری کرنے کی مقدور بھر کوششیں بھی کی ہیں، مگر امریکی ظالمانہ پابندیوں کے کارن ایرانی عوام ریلیف محسوس نہیں کررہے ۔

ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے سبب پاکستان بھی متاثر ہُوا ہے اور ہنوذ ہو رہا ہے ۔لیکن اِن مشکلات اور دشواریوں کے باوجود پاکستانی عوام کے دل ایرانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔اِس کا ایک تازہ اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ جون2025 میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور یہ جنگ 12روز تک جاری رہی تو اِس پورے عرصے میں پاکستان اور پاکستانی عوام پورے قد ، پورے جذبوں اورپورے اخلاص کے ساتھ برادر اسلامی ایران کے ساتھ کھڑے رہے ۔ اور جب خود امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ایرانی تنصیبات پر میزائل گرائے ، تب بھی پاکستانیوں کی ہمدردیاں اور محبتیں ایران ہی کے ساتھ تھیں ۔ ہم دونوں ہمسایہ و برادر ممالک کے چھوٹے موٹے اختلافات تو ہو سکتے ہیں مگر طاغوتی قوتیں بھی جانتی ہیں کہ جب بھی اسلامی ایران پر حملہ ہوگا ، پاکستانی قوم کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہوں گی ۔

لیکن وحشتناک بات یہ ہے کہ امریکا اور امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، ایران سے دشمنی سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ۔ امریکا کی جانب سے ایران پر بے پناہ اور ناقابلِ برداشت معاشی پابندیوں کے کارن ایرانی عوام شدید مہنگائی ، ڈالر کے مقابل ایرانی ریال کی تیزی سے گراوٹ ، توانائی کے داموں میں اضافہ ، بیروزگاری اور پانی کی اشد قلّت ایسے بڑے مسائل و مصائب کا شکار بن رہے ہیں ۔ اِسی دباؤ کی بنیاد پر ایران کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاجات بھی ہُوئے ہیں ۔ اِن احتجاجات کو مزید بھڑکانے کے لیے امریکی ہاتھ بھی اپنے کام دکھا رہے ہیں ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2جنوری2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو ملفوف انداز میں نہیں ، بلکہ کھلے الفاظ میں دھمکی دی ہے ۔ یہ دھمکی ایرانی عوام کو اپنی حکومت اور نظم کے خلاف مشتعل کرنے کی قابلِ مذمت کوشش ہے ۔ عالمِ اسلام بخوبی سمجھتا ہے کہ اِس دھمکی کے عقب میں اسرائیل کے ایران مخالف عزائم بھی پوشیدہ ہیں ۔

وینزویلا کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ہاتھ دکھایا ہے، یہ دراصل ایران کو اشارتاً دھمکی بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ دیکھ کر مگر خوشی اور اطمینان ہوتا ہے کہ معززو محترم ایرانی قیادت نے امریکی صدر کی دھمکی کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے جرأت و استقامت سے اِس کا جواب دیا ہے ۔صدرِ ایران ، جناب مسعود پزشکیان، ٹھنڈے ، مگر مستحکم لہجے میں اور حکمت کے ساتھ ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی مستحسن کوشش بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الزامات عائد وینزویلا پر وینزویلا کے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر اپنی مرضی امریکا نے ایران کے عائد کیے نے ایران ایران پر نے اپنی کے ساتھ رہے ہیں عائد کی کے خلاف ہے کہ ا کے لیے ہیں کہ بھی کی

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران