Jasarat News:
2026-06-02@23:41:31 GMT

وینز ویلا پر امریکی حملہ!

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا نے ایک بار پھر اپنی روایتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں لاطینی امریکا کے ملک وینز ویلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلاکے صدر اور ان کی بیوی کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ اسپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے گرفتار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل گزشتہ سال وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مجرمانہ الزامات پر مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ مائیک لی کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں اب مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر ِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑ بن چکا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ ملک اب منشیات کی اسمگلنگ کی جنت نہ رہے۔ امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق وینزویلا کے صدر پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے، منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے کی غیر قانونی برآمد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی عدالتوں میں امریکی قانون کے تحت جواب دہ ہونا پڑے گا، تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف وینزویلا میں قانون کی بالادستی کے لیے اہم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا بھی پیغام ہے۔ مقدمے کی سماعت اور آئندہ قانونی کارروائیوں کے دوران امریکی عدالت میں ثبوت اور گواہان پیش کیے جائیں گے، جبکہ مادورو کی حکومتی حمایت یافتہ سرگرمیوں پر بھی تفصیلی تحقیقات متوقع ہیں۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ وینزویلا کی آزادی اور خودمختاری پر کاری ضرب لگانے کے بعد امریکی صدر اب کولمبیا پر حملے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’کولمبیا کے خلاف کارروائی میرے نزدیک ایک اچھا خیال ہے‘‘، انہوں نے کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’کولمبیا ایک بیمار آدمی کے زیر ِ انتظام ہے اور وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا‘‘، جس کے جواب میں، کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اتوار کے روز وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کو اغوا قرار دیا، اور کہا کہ اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔ پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا ’’جب وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف کسی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہ ہو تو گرفتاری اغوا بن جاتی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 1989 میں بھی امریکا فوجی آپریشن کے ذریعے لاطینی امریکا کے ملک پانامہ میں اْس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے بے دخل کر چکا ہے، وینزویلا کے صدر کی طرح مانوئل نوریگا کو بھی امریکی افواج اپنے ساتھ امریکا لے گئیں تھیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس وقت نوریگا پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے، کم و بیش اْسی نوعیت کے الزامات وینزویلا کے صدر پر عاید کیے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے وینزویلا پر کی جانے والی امریکی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے ’’خطے پر تشویشناک اثرات‘‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس صورتحال پر پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنے پر زور دیا ہے، دوسری جانب عالمی برادری نے امریکی کارروائی پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے وینز ویلا کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ وینزولا پر امریکی کی حالیہ جارحیت اس نوع کا پہلا واقعہ نہیں امریکا اس سے قبل بھی لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں جارحانہ کارروائی کرچکا ہے۔ امریکا اب تک گوئٹے مالا، کیوبا، ایکواڈور، برازیل، ڈومینیکن ریپبلک، بولیویا، یوراگوئے، چلی، ارجنٹائن اور نکاراگوا میں مداخلت اور جارحیت کرچکا ہے اور اپنی ان مداخلتوںکو کمیونزم کے خلاف اور اپنے اسٹرٹیجک مفادات کا تحفظ باور کراتا رہا۔ اب وینزویلا پر حالیہ جارحیت کی بھی من پسند توجیح پیش کی جارہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نارکو ٹیررازم اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت کے پس ِ پردہ مقاصد کیا ہیں، اس سوال کا جواب اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا، بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی حالیہ کارروائی دراصل تیل کے ذخائر پر کنٹرول، علاقائی اثر رسوخ اور امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر اہداف کا حصہ ہے۔ امریکا کا بنیادی مقصد وینزویلا کے دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی ہے، علاوہ ازیں غزہ کے مسئلہ پر وینزولا کے صدر نے جس جرأت مندانہ موقف کا اظہار کیا، امریکا اس پر بھی سیخ پا تھا حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے لبنان اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت پر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو یورپی یونین اور امریکا کی طرف سے پیدا کردہ ’’ایک عفریت‘‘ قرار دیا تھا۔ مادورو نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حقیقی انصاف اور مستقل امن تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، امریکا کی اس کارروائی سے لاطینی امریکا میں نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو امریکا کی اس جارحیت کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نا صرف امن کے نوبل انعام کے خواہش مند ہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں قیام امن کی خواہش اسی نوع کی جارحیت سے پوری ہوگی؟ امریکا طاقت کے نشے میں جس بدمستی کا شکار ہے اگر اس کے ہاتھ نہ روکے گئے تو پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو لاطینی امریکا بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر امریکا کی پر امریکی کے مطابق یہ ہے کہ کے خلاف اور ان

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان