Jasarat News:
2026-07-24@09:04:36 GMT

وینز ویلا پر امریکی حملہ!

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

وینز ویلا پر امریکی حملہ!

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-03-3

 

امریکا نے ایک بار پھر اپنی روایتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں لاطینی امریکا کے ملک وینز ویلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلاکے صدر اور ان کی بیوی کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ اسپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے گرفتار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل گزشتہ سال وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مجرمانہ الزامات پر مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ مائیک لی کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں اب مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر ِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑ بن چکا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ ملک اب منشیات کی اسمگلنگ کی جنت نہ رہے۔ امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق وینزویلا کے صدر پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے، منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے کی غیر قانونی برآمد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی عدالتوں میں امریکی قانون کے تحت جواب دہ ہونا پڑے گا، تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف وینزویلا میں قانون کی بالادستی کے لیے اہم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا بھی پیغام ہے۔ مقدمے کی سماعت اور آئندہ قانونی کارروائیوں کے دوران امریکی عدالت میں ثبوت اور گواہان پیش کیے جائیں گے، جبکہ مادورو کی حکومتی حمایت یافتہ سرگرمیوں پر بھی تفصیلی تحقیقات متوقع ہیں۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ وینزویلا کی آزادی اور خودمختاری پر کاری ضرب لگانے کے بعد امریکی صدر اب کولمبیا پر حملے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’کولمبیا کے خلاف کارروائی میرے نزدیک ایک اچھا خیال ہے‘‘، انہوں نے کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’کولمبیا ایک بیمار آدمی کے زیر ِ انتظام ہے اور وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا‘‘، جس کے جواب میں، کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اتوار کے روز وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کو اغوا قرار دیا، اور کہا کہ اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔ پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا ’’جب وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف کسی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہ ہو تو گرفتاری اغوا بن جاتی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 1989 میں بھی امریکا فوجی آپریشن کے ذریعے لاطینی امریکا کے ملک پانامہ میں اْس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے بے دخل کر چکا ہے، وینزویلا کے صدر کی طرح مانوئل نوریگا کو بھی امریکی افواج اپنے ساتھ امریکا لے گئیں تھیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس وقت نوریگا پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے، کم و بیش اْسی نوعیت کے الزامات وینزویلا کے صدر پر عاید کیے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے وینزویلا پر کی جانے والی امریکی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے ’’خطے پر تشویشناک اثرات‘‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس صورتحال پر پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنے پر زور دیا ہے، دوسری جانب عالمی برادری نے امریکی کارروائی پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے وینز ویلا کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ وینزولا پر امریکی کی حالیہ جارحیت اس نوع کا پہلا واقعہ نہیں امریکا اس سے قبل بھی لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں جارحانہ کارروائی کرچکا ہے۔ امریکا اب تک گوئٹے مالا، کیوبا، ایکواڈور، برازیل، ڈومینیکن ریپبلک، بولیویا، یوراگوئے، چلی، ارجنٹائن اور نکاراگوا میں مداخلت اور جارحیت کرچکا ہے اور اپنی ان مداخلتوںکو کمیونزم کے خلاف اور اپنے اسٹرٹیجک مفادات کا تحفظ باور کراتا رہا۔ اب وینزویلا پر حالیہ جارحیت کی بھی من پسند توجیح پیش کی جارہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نارکو ٹیررازم اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت کے پس ِ پردہ مقاصد کیا ہیں، اس سوال کا جواب اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا، بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی حالیہ کارروائی دراصل تیل کے ذخائر پر کنٹرول، علاقائی اثر رسوخ اور امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر اہداف کا حصہ ہے۔ امریکا کا بنیادی مقصد وینزویلا کے دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی ہے، علاوہ ازیں غزہ کے مسئلہ پر وینزولا کے صدر نے جس جرأت مندانہ موقف کا اظہار کیا، امریکا اس پر بھی سیخ پا تھا حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے لبنان اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت پر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو یورپی یونین اور امریکا کی طرف سے پیدا کردہ ’’ایک عفریت‘‘ قرار دیا تھا۔ مادورو نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حقیقی انصاف اور مستقل امن تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، امریکا کی اس کارروائی سے لاطینی امریکا میں نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو امریکا کی اس جارحیت کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نا صرف امن کے نوبل انعام کے خواہش مند ہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں قیام امن کی خواہش اسی نوع کی جارحیت سے پوری ہوگی؟ امریکا طاقت کے نشے میں جس بدمستی کا شکار ہے اگر اس کے ہاتھ نہ روکے گئے تو پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو لاطینی امریکا بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر امریکا کی پر امریکی کے مطابق یہ ہے کہ کے خلاف اور ان

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران