وینز ویلا پر امریکی حملہ!
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-03-3
امریکا نے ایک بار پھر اپنی روایتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں لاطینی امریکا کے ملک وینز ویلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلاکے صدر اور ان کی بیوی کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ اسپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے گرفتار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل گزشتہ سال وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مجرمانہ الزامات پر مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ مائیک لی کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں اب مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر ِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑ بن چکا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ ملک اب منشیات کی اسمگلنگ کی جنت نہ رہے۔ امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق وینزویلا کے صدر پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے، منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے کی غیر قانونی برآمد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی عدالتوں میں امریکی قانون کے تحت جواب دہ ہونا پڑے گا، تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف وینزویلا میں قانون کی بالادستی کے لیے اہم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا بھی پیغام ہے۔ مقدمے کی سماعت اور آئندہ قانونی کارروائیوں کے دوران امریکی عدالت میں ثبوت اور گواہان پیش کیے جائیں گے، جبکہ مادورو کی حکومتی حمایت یافتہ سرگرمیوں پر بھی تفصیلی تحقیقات متوقع ہیں۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ وینزویلا کی آزادی اور خودمختاری پر کاری ضرب لگانے کے بعد امریکی صدر اب کولمبیا پر حملے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’کولمبیا کے خلاف کارروائی میرے نزدیک ایک اچھا خیال ہے‘‘، انہوں نے کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’کولمبیا ایک بیمار آدمی کے زیر ِ انتظام ہے اور وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا‘‘، جس کے جواب میں، کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اتوار کے روز وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کو اغوا قرار دیا، اور کہا کہ اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔ پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا ’’جب وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف کسی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہ ہو تو گرفتاری اغوا بن جاتی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 1989 میں بھی امریکا فوجی آپریشن کے ذریعے لاطینی امریکا کے ملک پانامہ میں اْس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے بے دخل کر چکا ہے، وینزویلا کے صدر کی طرح مانوئل نوریگا کو بھی امریکی افواج اپنے ساتھ امریکا لے گئیں تھیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس وقت نوریگا پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے، کم و بیش اْسی نوعیت کے الزامات وینزویلا کے صدر پر عاید کیے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے وینزویلا پر کی جانے والی امریکی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے ’’خطے پر تشویشناک اثرات‘‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس صورتحال پر پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنے پر زور دیا ہے، دوسری جانب عالمی برادری نے امریکی کارروائی پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے وینز ویلا کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ وینزولا پر امریکی کی حالیہ جارحیت اس نوع کا پہلا واقعہ نہیں امریکا اس سے قبل بھی لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں جارحانہ کارروائی کرچکا ہے۔ امریکا اب تک گوئٹے مالا، کیوبا، ایکواڈور، برازیل، ڈومینیکن ریپبلک، بولیویا، یوراگوئے، چلی، ارجنٹائن اور نکاراگوا میں مداخلت اور جارحیت کرچکا ہے اور اپنی ان مداخلتوںکو کمیونزم کے خلاف اور اپنے اسٹرٹیجک مفادات کا تحفظ باور کراتا رہا۔ اب وینزویلا پر حالیہ جارحیت کی بھی من پسند توجیح پیش کی جارہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نارکو ٹیررازم اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت کے پس ِ پردہ مقاصد کیا ہیں، اس سوال کا جواب اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا، بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی حالیہ کارروائی دراصل تیل کے ذخائر پر کنٹرول، علاقائی اثر رسوخ اور امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر اہداف کا حصہ ہے۔ امریکا کا بنیادی مقصد وینزویلا کے دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی ہے، علاوہ ازیں غزہ کے مسئلہ پر وینزولا کے صدر نے جس جرأت مندانہ موقف کا اظہار کیا، امریکا اس پر بھی سیخ پا تھا حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے لبنان اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت پر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو یورپی یونین اور امریکا کی طرف سے پیدا کردہ ’’ایک عفریت‘‘ قرار دیا تھا۔ مادورو نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حقیقی انصاف اور مستقل امن تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وینزویلا پر امریکی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، امریکا کی اس کارروائی سے لاطینی امریکا میں نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو امریکا کی اس جارحیت کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نا صرف امن کے نوبل انعام کے خواہش مند ہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں قیام امن کی خواہش اسی نوع کی جارحیت سے پوری ہوگی؟ امریکا طاقت کے نشے میں جس بدمستی کا شکار ہے اگر اس کے ہاتھ نہ روکے گئے تو پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو لاطینی امریکا بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر امریکا کی پر امریکی کے مطابق یہ ہے کہ کے خلاف اور ان
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔