Juraat:
2026-06-02@22:19:51 GMT

اکیسویں صدی کی لڑائیاں

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

اکیسویں صدی کی لڑائیاں

بے لگام / ستار چوہدری

 

سمندر نقشے نہیں مانتے
مگر طاقتور
ان پر لکیریں کھینچتے ہیں
جہاں جہاز رکیں
وہاں امن ٹوٹتا ہے
ایک راستہ سانس لے
تو بازار زندہ
ایک راستہ رکے
تو دنیا کانپے
یہ جنگیں پانی کی نہیں
گزرنے کے حق کی ہیں
کل قافلہ تھا
آج کنٹینر ہیں
نام بدل گئے
مگر لڑائی وہی ہے !
حالات واقعات سے لگتا ہے شاید تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے ،لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جائیں،ان جنگوں کا اصل میں وجہ تنازع کیاہے ۔۔۔؟ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، بس راستے بدل جاتے ہیں، بدرکی لڑائی بھی تجارتی راستے کی وجہ سے ہوئی، فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت اونٹوں کے قدموں کی آواز تھی اورآج سمندروں میں انجنوں کا شور،مگر حقیقت ایک ہی ہے ،جب طاقت کو اپنے راستے خطرے میں نظر آئیں تو جنگ نقشے پر لکھی جانے لگتی ہے ۔ دنیا نظریات پر کم اور راستوں پر زیادہ لڑ رہی ہے ۔ سمندری گزرگاہیں اب
پانی کے راستے نہیں رہیں، بلکہ اقتدار کے فیصلے وہاں ہوتے ہیں۔ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو صرف جہاز نہیں رکتے ، قومیں لرزتی ہیں، حکومتیں
ہلتی ہیں، اور دنیا مہنگائی و بحران کی لپیٹ میں آ جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی جنگیں نقشوں میں لڑی جا رہی ہیں، اور کل کی تاریخ شاید یہ
لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
دنیا کی تقریباً نوے فیصد تجارت سمندروں کے ذریعے ہوتی ہے ، اس لیے ہر وہ سمندری گزرگاہ جہاں سے عالمی معیشت سانس لیتی ہے ،
طاقتور ریاستوں کے لیے میدان جنگ بن چکی ہے ۔بحیرۂ جنوبی چین اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک معاشی اور عسکری چوراہا ہے ۔ یہاں چین ایک طرف کھڑا ہے ، اور اس کے مقابل فلپائن، ویتنام، ملائشیا، برونائی اور تائیوان ہیں، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی پس پردہ موجود ہیں۔ اس سمندر سے دنیا کی لگ بھگ تیس فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے ۔ اگر یہاں چین اور امریکا یا علاقائی ممالک کے درمیان کھلا تصادم ہو جائے تو الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور گاڑیوں کی عالمی سپلائی متاثر ہوگی، اور ان اشیاء کی قیمتیں بیس سے پینتیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں یمن، ایران، سعودی عرب، اسرائیل، امریکا اور یورپی طاقتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ آمنے سامنے ہیں۔ یہ راستہ دنیا کی بارہ سے پندرہ فیصد تجارت اور یورپ و ایشیا کے درمیان بڑے حصے کو جوڑتا ہے ۔ جب یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو جہاز افریقہ کا طویل چکر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں دس سے بیس فیصد، جبکہ خوراک اور صارف اشیاء پندرہ سے پچیس فیصد تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔آبنائے ہرمز ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان مستقل تناؤ کی علامت ہے ۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اور پچیس فیصد مائع قدرتی گیس اسی تنگ راستے سے گزرتی ہے ۔ اگر ایران اور امریکا یا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تصادم شدت اختیار کرے اور یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں تیس سے پچاس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک گولی بھی پوری دنیا کو ہلا دیتی ہے ۔
بحیرۂ اسود روس، یوکرین، نیٹو ممالک اور بالخصوص ترکی کے درمیان کشمکش کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس راستے سے دنیا کا تقریباً دس فیصد اناج، خاص طور پر گندم اور مکئی، عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے ۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر یہ سمندری راستہ متاثر ہو تو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں غذائی بحران پیدا ہو جاتا ہے ، اور گندم کی قیمتیں پچیس سے چالیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ یہاں جنگ زمین پر ہے ، مگر اس کا اثر سمندر کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلتا ہے ۔
مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی ایک طرف ہے ، جبکہ یونان، قبرص، اسرائیل اور مصر دوسری طرف۔ تنازع سمندری حدود، گیس کے ذخائر اور توانائی کے نئے راستوں پر ہے ۔ اگرچہ یہاں سے عالمی تجارت کا حصہ تقریباً پانچ فیصد ہے ، مگر یورپ کی توانائی سلامتی اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے ۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں یورپ میں گیس اور بجلی کی قیمتیں پندرہ سے تیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور سرد ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ۔بحیرۂ عرب اور بحرہند میں پاکستان، بھارت، چین اور امریکا خاموش مگر گہری اسٹریٹجک کشمکش میں مصروف ہیں۔ یہاں سے دنیا کی تقریباً چالیس فیصد تیل بردار شپنگ گزرتی ہے ۔ گوادر، چابہار، ممبئی اور سری لنکا کی بندرگاہیں محض تجارتی مراکز نہیں بلکہ طاقت کے ستون ہیں۔ اگر اس خطے میں کسی بڑی جنگ یا ناکہ بندی کا آغاز ہو جائے تو عالمی منڈی میں ایندھن اور درآمدی اشیاء کی قیمتیں دس سے بیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور ایشیا کی معیشتیں شدید دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
یہ سمندر اب صرف پانی نہیں رہے ، یہ انسانی طمع، قومی فخر، معاشی بقا اور عالمی طاقت کی کہانیوں کا آئینہ ہیں۔ ان کی گہرائیوں میں لہریں اب صرف موج نہیں اٹھاتیں، جنگیں اٹھاتی ہیں۔ دنیا کی معیشت کا نوے فیصد سمندر سے گزرتا ہے اور یہ راستے اگر رک گئے تو وقت رک جائے گا، تجارت تھم جائے گی اور امن کی امید کمزور پڑ جائے گی۔آخر میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا انسانیت ان سمندروں کو امن کی جگہ بنا پائے گی، یا یہ نیلے میدان ایک دن سرخ خون سے رنگ جائیں گے ؟ وقت بتائے گا، مگر سمندر خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، اور ان کی لہریں اب بھی بتا رہی ہیں کہ دنیا کا مستقبل ان کی گود میں ہے ۔ کل کی تاریخ شاید یہ لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہو جائے تو کی قیمتیں کے درمیان دنیا کی دنیا کا

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار