تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
جاری مالی سال کے پہلے 6ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو ملک بھر میں وصول ہونیوالے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً ہر دس میں سے ایک روپیہ بنتا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جولائی تا دسمبر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیا گیا ٹیکس اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے سے کچھ زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔
یہ رقم بک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بْک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر انکم ٹیکس کی وصولی 243 ارب روپے تھی۔
پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ غیر ضروری طور پر بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ایف بی آر کی سست روی کا شکار ہے جو ٹیکس وصولی کا بوجھ موجودہ ٹیکس دہندگان، بالخصوص تنخواہ دار افراد اور صنعتکاروں پر ڈال دیتا ہے۔
تنخواہ دار طبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے، جو نہ صرف خطے کے دیگر ممالک بلکہ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا تھا کہ ہم نے اپنی مالی صورتحال کو بگاڑ دیا ہے، اسی لیے حکومت کے پاس واحد حل ٹیکسیشن رہ گیا ہے اور آپ کاروباری حضرات آسان ہدف ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے ادا کیے، جو سال بہ سال 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیںقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے انکم ٹیکس آرڈیننس تیسرا ترمیمی بل منظور
ایف بی آر کا لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ
ایف بی آر کو کم کر کے مقرر کیے گئے 6.
اس کے باوجود مجموعی وصولیوں میں بمشکل 10 فیصد اضافہ ہو سکا، جو سالانہ ہدف کے لیے درکار شرح کا نصف تھا۔پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر نے 3.03 ٹریلین روپے انکم ٹیکس وصول کیا، جس میں سے تقریباً دسواں حصہ تنخواہ دار افراد سے وصول ہوا۔
صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے، جبکہ وفاقی ملازمین کی ادائیگیاں 27 ارب روپے رہیں، جن میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔
حکومت کی جانب سے امیر پنشنرز پر عائد نیا ٹیکس، جو سالانہ 1 کروڑ روپے سے زائد پنشن پر نافذ کیا گیا، خاطر خواہ نتائج نہ دے سکا اور اندازہ ہے کہ سالانہ وصولیاں بمشکل 1 ارب روپے تک پہنچیں گی۔
داخلی دباؤ کے تحت حکومت نے گزشتہ ماہ دوبارہ رٹائرڈ ملازمین کو ایک سے زائد پنشن لینے کی اجازت دے دی، جس سے پنشن اصلاحات اور اخراجات میں کمی کے دعوؤں کو نقصان پہنچا۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی زیادہ ٹیکسوں کا سامنا رہا، جس میں نان فائلرز کے لیے بلند شرحیں اور لیٹ فائلرز کی نئی کیٹیگری شامل ہے۔
پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی دو تہائی بڑھ کر 87 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پلاٹوں کی خرید پر وصولیاں 29 فیصد کم ہو کر 39 ارب روپے رہیں۔
بجٹ میں حکومت نے پلاٹوں کی خرید پر ٹیکس کم جبکہ فروخت پر شرح بڑھا دی تھی۔مجموعی طور پر حکومت نے مالی سال کے پہلے نصف میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا، جو 17 فیصد اضافہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے انکم ٹیکس تنخواہ دار افراد کے مقابلے میں فیصد اضافہ رئیل اسٹیٹ ایف بی ا ر ٹیکس ادا مالی سال ادا کیا ٹیکس کی سال کے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔