10 دن گزر گئے، حکومت نے تحریک تحفظ آئین سے رابطہ نہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
10 دن گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت نے اپوزیشن اتحاد ’’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘‘ ( ٹی ٹی اے پی ) سے ابھی تک کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں کیا کہ مذاکرات کب اور کیسے شروع کیے جائیں۔
تحریک تحفظ آئین نے 24 دسمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی تھی۔
ٹی ٹی اے پی کے وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش پر سنجیدگی اور پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ہم نے بغیر کسی پیشگی شرط کے بڑے قومی مسائل پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے۔
کئی ماہ گزرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نوٹیفائی نہیں کیا جا رہا۔
مزید پڑھیںگورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک بن جائے گا، تحریک تحفظ آئین پاکستان
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے فواد چودھری کی قیادت میں کل بدھ کو ہونے والی ’’ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ‘‘ کی کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی انکار کر دیا ہے۔
پی پی اور ن لیگ آج کانفرنس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کریں گی۔ سپیریئر بارز کے نمائندوں نے شرکت پر آمادگی دی ہے۔ سیاسی مبصرین نے کہا مذاکرات کی راہ ہموار ہونا ابھی دور ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اندرونی گہرے اختلافات پارٹی کے مستقبل کے سیاسی رخ پر اتفاقِ رائے کو دھندلا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندر ایک دھڑا مذاکرات کا مخالف اور دوبارہ احتجاجی تحریک کی حکمتِ عملی کو ترجیح دیتا ہے ۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ملک بھر، بالخصوص کے پی میں پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
علیمہ بھی بات چیت کرنے کی مخالف ہیں۔ تاہم پارٹی کے اندر اس بات پر اتفاق نظر آتا ہے کہ عمران خان نے مستقبل کے لائحہ عمل کا اختیار سربراہ ٹی ٹی اے پی محمود اچکزئی کو دے دیا جنہوں نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش قبول کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین مذاکرات کی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔