امر یکا : آنکھوں پر پٹی ‘ہاتھوں میں ہتھکڑیاں,وینزویلا کے صدر و اہلیہ کو سڑکوں پر گھماتے ہوئے عدالت لے جایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراکس /واشنگٹن /ماسکو /ہوانا /بیجنگ /ویٹیکن سٹی /بوگوٹا /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو نیویارک عدالت میں پیش کرنے کے لیے ہتھکڑی لگاکر سڑکوں پر گھمایا گیا‘فردجرم عاید کرد گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو صدر ٹرمپ کے حکم پر ان کے صدارتی محل سے رات کو سوتے ہوئے اہلیہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق وینزویلا کی عبوری صدر رودریگیز نے اتوار کی رات کابینہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد امریکا اور ٹرمپ کے لیے مفاہمتی پیغام پوسٹ کیا ہے۔ وہ پیر کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔ جبکہ مادورہ کے بیٹے نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔ فیڈرل کورٹ مین ہٹن نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر فرد جرم عاید کردی۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے سماعت کے دوران وینزویلا کے صدر کو دوبارہ بروکلین حراستی مرکز بھیج دیا۔مادورو اور ان کی اہلیہ نے ضمانت کی درخواست دینے سے انکار کردیا۔ نیویارک کی عدالت میں مادورو نے کہا کہ ایماندار آدمی ہوں، مجھے گھر سے اغوا کیا گیا، قصوار نہیں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں۔ عدالت نے مادورو کو زیادہ بولنے سے روک دیا، جج نے کہا کہ آپ کو بعد میں بولنے کا موقع ملے گا۔مادورو کے وکیل نے کہا کہ میرا موکل خود مختار ریاست کا صدر ہے اور اسے استثنا حاصل ہے، ان کا فوجی طاقت سے اغوا غیرقانونی ہے۔ وینزویلا صدر کی اہلیہ کے وکیل نے کہا کہ میری موکلہ کو حراست کے دوران شدید چوٹیں آئی ہیں۔علاوہ ازیں نیویارک کی عدالت نے 17 مارچ کو مادورو کو دوبارہ پیش کرنے اور سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ وینزویلا کے تعاون کی پیشکش کو خود امریکا نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا تھا لیکن گرفتار صدر کے ساتھ حسن سلوک نہیں برتا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے، تیل کے ذخائر قبضے میں لینے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے گا۔ ائرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا میں تیل اور دیگر وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے، وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوسرا حملہ بھی کرے گا۔ امریکی صدر نے وینزویلا میں اقتدار سنبھالنے والی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز اور خطے کے دیگر ملکوں کو بھی دھمکیاں دیں اور کہا کہ ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیلسی روڈریگیز کو امریکی مطالبات ماننا ہوں گے ورنہ ان کو نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، وینزویلا ممکن ہے امریکی مداخلت کا آخری ملک نہ ہو، ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، گرین لینڈ امریکی دفاع کے لیے ضروری ہے جو چینی اور روسی جہازوں سے گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کیوبا سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود ہی گرنے والی ہے، شاید فوجی مداخلت کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ کیوبا کی آمدنی وینزویلا سے آتی تھی اور اب انہیں وہ بھی نہیں ملے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا ایک بیمار شخص چلا رہا ہے جو کوکین بنانے اور اسے امریکا فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائے گا۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران میکسیکو کو بھی خبردار کیا کہ میکسیکو نے اپنا نظام درست نہ کیا توامریکا کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ کیوبا حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں امریکا کی کارروائی میں ہمارے 32 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ہوانا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ملک بھر میں 2 روزہ سوگ منایا جائے گا ۔سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ملک میں موجود وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے تمام ممکنہ اثاثے فوری طور پر منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔سوئس وفاقی کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے کا مقصد اثاثوں کے ممکنہ انخلا کو روکنا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں حالات میں تبدیلی کے باوجود تعاون کے فروغ کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، وینزویلا میں چینی مفادات کا قانون کے ذریعے تحفظ کیا جائے گا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کے طاقت کے استعمال سے لاطینی امریکا کے امن کو خطرہ ہے۔ ادھر عالمی میڈیا کی رپورٹس میں بتایاگیا کہ امریکی حملوں کے بعد ہوچکی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکا وینزویلا کے معاملات خود چلائے گا۔امریکی صدر کاکہنا ہے کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو امریکی تحویل میں لیا جائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے وینزویلا کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے صدر نکولس مادورو کے تختہ الٹنے کے بعد کی صورتِ حال کو پریشانی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ پاپائے روم پوپ لیو نے کہا کہ وینزویلا میں انسانی حقوق اور آئینی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہر کسی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ روسی سیکورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یورپی ممالک کے دہرے معیار آشکار ہو گیا ہے، واشنگٹن ہمیشہ اپنی سیاسی و اقتصادی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے جس میں وینزویلا کے تیل اور قدرتی وسائل بھی شامل ہیں‘امریکی جارحیت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے غیر مؤثر میکانزم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو حقیقی اور مؤثر بین الاقوامی قانون کے طریقہ کار کی ضرورت ہے تاکہ اربوں انسانوں کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔و ینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کی اس کارروائی میں، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، وینزویلا کی سیکورٹی ٹیم کا بڑا حصہ ہلاک ہو گیا۔ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پیڈرینو نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھی۔ انہوں نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کرنے کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مسلح افواج کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکے، جسے انہوں نے ’سامراجی جارحیت‘ قرار دیا، اس کا مقابلہ کیا جا سکے‘ فوج اور سیکورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور ملک کی تمام اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے بوگوٹا سے خبر ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے کہا کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ دوبارہ ہتھیاروں کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، لیکن اب وطن کے لیے دوبارہ ہتھیار اٹھانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھائیں گے، جنہوں نے دو روز قبل فوجی کارروائی کرکے ہمسایہ ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں 3 جنوری کی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔ وینزویلا کی صورتحال پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا۔سلامتی کونسل اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں، وینزویلا میں عدم استحکام پھیلنے اور خطے پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو صدر نکولس مادورو کو ڈیلسی روڈریگز کرتے ہوئے کہا وینزویلا کی اقوام متحدہ نے وینزویلا ٹرمپ نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ا کہا ہے کہ انہوں نے کے مطابق کیا جا کی صدر کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔