بیٹی سے زیادتی کے جرم میں باپ کو 10 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں بیٹی سے زیادتی کے جرم میں باپ کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔عدالت نے ملزم پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔عدالت نے جرمانے کی رقم متاثرہ لڑکی کو بطور معاوضہ دینے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ ملزم کا کوئی سابقہ کرمنل ریکارڈ نا ہونا اور تفتیش میں اہم شواہد جمع نہ کرنے پر سزا میں نرمی کی گئی۔ عدالت نے دفاع کی طرف سے جائیداد ہتھیانے کیلیے جھوٹا مقدمہ درج کرانے کی دلیل مسترد کردی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ماں اپنی بیٹی کو جھوٹے الزام میں کبھی نہیں الجھائے گی۔استغاثہ کے مطابق واقعہ ستمبر 2023 میں کورنگی کے علاقے میں پیش آای، متاثرہ لڑکی کے مطابق والد نے رات کے وقت کمرے میں لے جا کر زیادتی کی۔ملزم کے خلاف کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔