دعوتِ ولیمہ میں عمران خان کی تصویر لہرا نے پر 7 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-08-1
راہوالی(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ پنجاب کے علاقہ راہوالی میں دعوت ولیمہ کی ایک تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تصویر لہرا کر نعرے لگانے پر 7 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ دعوت ولیمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی تصویر لہرا کر نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کے 2 پارٹی عہدیداروں سمیت 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس پیش آیا جب پی ٹی آئی راہوالی کے رہنما زاہد ملک کے بھائی ملک حسن کی مقامی مارکی میں دعوت ولیمہ ہورہی تھی جس میں عزیزواقارب، رشتہ داروں کے علاوہ علاقہ کے تحریک انصاف کے کارکن، ایم پی اے اور عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔بتایا گیا ہے کہ تقریب کے دوران ایک موقع پر کسی کارکن نے عمران خان کی قد آور تصویر کی نمائش کی تو وہاں پر موجود کارکن اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور انہوں نے سابق وزیراعظم کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیے۔ تقریب ختم ہوتے ہی کینٹ پولیس نے کارروائی شروع کردی اور رات گئے تک 2 پارٹی عہدیداروں سمیت 7 افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف نقص امن کا مقدمہ درج کرلیا۔گرفتار ملزموں میں پی ٹی آئی کے سینئر نائب تحصیل صدر طارق محمود وڑائچ، جنرل سیکرٹری کینٹ مرزا عمران بیگ، دولہا کے بھائی زاہد ملک، افتخار احمد ڈانجہ، کریم حسن بھنڈر، ایاز مہر اور ذیشان اقبال شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔