دعوتِ ولیمہ میں عمران خان کی تصویر لہرانےپر7گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راہوالی:صوبہ پنجاب کے علاقہ راہوالی میں دعوت ولیمہ کی ایک تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تصویر لہرا کر نعرے لگانے پر 7 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
دعوت ولیمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی تصویر لہرا کر نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کے 2 پارٹی عہدیداروں سمیت 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اس پیش آیا جب پی ٹی آئی راہوالی کے رہنما زاہد ملک کے بھائی ملک حسن کی مقامی مارکی میں دعوت ولیمہ ہورہی تھی جس میں عزیزواقارب، رشتہ داروں کے علاوہ علاقہ کے تحریک انصاف کے کارکن، ایم پی اے اور عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔
بتایا گیا ہے کہ تقریب کے دوران ایک موقع پر کسی کارکن نے عمران خان کی قد آور تصویر کی نمائش کی تو وہاں پر موجود کارکن اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور انہوں نے سابق وزیراعظم کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیے۔
تقریب ختم ہوتے ہی کینٹ پولیس نے کارروائی شروع کردی اور رات گئے تک 2 پارٹی عہدیداروں سمیت 7 افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف نقص امن کا مقدمہ درج کرلیا۔
گرفتار ملزموں میں پی ٹی آئی کے سینئر نائب تحصیل صدر طارق محمود وڑائچ، جنرل سیکرٹری کینٹ مرزا عمران بیگ، دولہا کے بھائی زاہد ملک، افتخار احمد ڈانجہ، کریم حسن بھنڈر، ایاز مہر اور ذیشان اقبال شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک