پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اِس وقت پارٹی کی ساری سیاست اسی جیل کے اردگرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

ہر منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی قیادت اور عمران خان کی بہنیں جمع ہوتے ہیں، وہاں تند و تیز بیانات دیے جاتے ہیں اور گزشتہ 3 دفعہ عمران خان کی بہنوں کو اٹھانے کے لیے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا جس کی پارٹی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے مذمت کی گئی۔

مزید پڑھیں: ’میرے ڈولے چیک کرو‘، بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں وکلا سے کیا گفتگو کرتے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وہ لوگ جو مذاکرات کے حامی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ پہلے عمران خان سے ملاقاتوں کو ممکن بنایا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں میں کیا چیز حائل ہے اور ہر منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے؟

پی ٹی آئی اراکین ہمیشہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جیل سپرنٹنڈنٹ کا مؤقف

اس حوالے سے جب وی نیوز نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے حوالے سے عدالتوں نے ایس او پیز (قواعد) وضع کر رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی اراکین ہمیشہ اُن قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہم نے اس سلسلے میں اِن کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ کے جیل رول 265 کے تحت یہ واضح ہے کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو نہیں ہو سکتی لیکن عمران خان کی بہنیں اور دیگر نہ صرف ملاقات کے وقت بلکہ باہر آ کر بھی اس رول کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اِس لیے اِن کو مُلاقات کی اِجازت نہیں دی جاتی، ہم نے بارہا اِن کو تنبیہہ کی لیکن یہ لوگ باز نہیں آتے۔

بہنوں کے نہ مِل پانے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

اڈیالہ جیل کی کوریج پر مامور صحافیوں نے وی نیوز کو بتایا کہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی پنجاب پولیس کے پاس ہے۔ ہر منگل کو جب علیمہ خان اور دیگر بہنیں ملاقات کے لیے آتی ہیں تو ایس ایچ او صدر بیرونی پولیس اسٹیشن اُن سے کہتا ہے کہ آپ اور دیگر بہنیں ملاقات کے لیے گیٹ نمبر 5 تک جا سکتی ہیں ہم آپ کو نہیں روکیں گے۔

صحافیوں کے مطابق اس دوران علیمہ خان ہمیشہ اِصرار کرتی ہیں کہ وہ اپنے کارکنان کے ساتھ گیٹ نمبر 5 تک جائیں گی، جس کے بعد انہیں وہاں پر روک دیا جاتا ہے۔

’اس کے بعد یہ لوگ وہاں دھرنا دے دیتے ہیں اور سڑک بلاک کر دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ سڑک بلاک نہ کریں تو پولیس کو مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب یہ سڑک بند کی جاتی ہے تو پولیس کو راستہ کھلوانے کے لیے ایکشن لینا پڑتا ہے، جس کا ایک مُظاہرہ گزشتہ تین بار ہم نے واٹر کینن کے استعمال کی صورت میں دیکھا ہے۔ لیکن واٹر کینن کا استعمال ایس ایچ او نہیں کر سکتا، اس کے استعمال کا فیصلہ ایس پی یا سینیئر افسران کرتے ہیں۔

ایک قیدی سے کون مل سکتا ہے؟

جیل مینوئل کے مطابق خونی رشتے دار قیدی سے ملاقات کر سکتے ہیں، اور گزشتہ عرصے میں عمران خان سے مُلاقات کرنے والوں میں اُن کی بہنوں کے علاوہ اُن کے بہنوئی اور بھانجیاں بھی شامل تھیں۔ جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کے لیے قیدی کا کنڈکٹ سیاسی نہیں ہونا چاہیے۔

جیل میں ساتوں روز مُلاقاتیں ہوتی ہیں اور ہر روز مختلف جرائم میں قید قیدیوں کو ملاقات کے لیے لایا جاتا ہے، کیوں کہ قیدیوں کو جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف بیرکوں میں رکھا گیا ہوتا ہے۔ قتل کے مجرم، دہشتگردی، منشیات، سائبر کرائم، کرپشن کے مجرم مختلف بیرکوں میں رکھے جاتے ہیں۔

اگر کسی قیدی کا کنڈکٹ سیاسی ہو یا اُس سے مُلاقات کے بعد باہر آ کر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جائے تو جیل سپرنٹنڈنٹ اپنے اختیارات کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگا سکتا ہے۔

عمران خان کی ملاقاتوں میں حائل قانونی رکاوٹیں

اڈیالہ جیل کی کوریج پر مامور صحافیوں نے وی نیوز کو بتایا کہ ملاقاتوں کی راہ میں تین بڑی رُکاوٹیں حائل ہیں۔ ایک تو یہ کہ پی ٹی آئی نے 2023 میں اِسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک بیانِ حلفی دیا تھا جس میں کہا گیا کہ دورانِ مُلاقات ہم سیاسی گفتگو نہیں کریں گے۔

’لیکن یہ لوگ جب بھی ملاقاتیں کر کے آتے تو نہ صرف دورانِ مُلاقات بلکہ باہر آ کر یہ سیاسی گفتگو کرتے جس کی وجہ سے مُلاقاتوں پر پابندی لگنا شروع ہو گئی۔‘

صحافیوں کے مطابق 2024 کے آغاز میں پی ٹی آئی نے اس پابندی کی خلاف ورزی شروع کی تو ایسا ہونے لگ گیا کہ کبھی ملاقات ہوتی کبھی نہ ہوتی۔

سُہیل آفریدی عمران خان سے کیوں مل نہیں پائے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اب تک عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صحافیوں نے بتایا کہ اس کی راہ میں سپریم کورٹ کا فروری 2018 کا فیصلہ حائل ہے۔

’مذکورہ فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل میں قید پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے سینیٹ الیکشن کے لیے پارٹی امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے تھے، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ ایک نااہل شخص پارٹی سربراہ ہو سکتا ہے نہ وہ سیاسی ہدایات جاری کر سکتا ہے اور نہ انتطامی سُپروژن کر سکتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: عمران خان جیل سے کب باہر آئیں گے؟ رانا ثنااللہ کا بڑا اعلان

صحافیوں کے مطابق سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ وہ سیاسی اور حکومتی ہدایات کے لیے عمران خان سے ملنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے منافی ہے جس کو بعد میں کسی سیاسی جماعت نے بھی چیلنج نہیں کیا تھا۔

عمران خان منگل کے روز اہلِ خانہ جبکہ جمعرات کے روز رفقا سے مُلاقات کر سکتے ہیں لیکن سیاسی رفقا سے ملاقات کی راہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حائل ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اڈیالہ جیل جیل مینوئل عمران خان عمران خان بہنیں ملاقاتیں وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل جیل مینوئل ملاقاتیں وی نیوز عمران خان سے ملاقات ملاقات کے لیے کی خلاف ورزی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے م لاقات پی ٹی ا ئی کے مطابق کرتے ہیں بتایا کہ اور دیگر سکتا ہے ہیں اور جیل میں باہر ا یہ لوگ

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان