وزٹ ویزہ پر پاکستان آ کر شادی کرنے والی بھارتی خاتون ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)یاتری ویزے پر پاکستان آنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور کو مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان میں قیام پر بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ ان کا ویزا 13 نومبر تک کارآمد تھا تاہم ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود وہ بھارت واپس نہیں گئیں اور اس دوران ننکانہ صاحب کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کرلی۔پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے تصدیق کی کہ سربجیت کور اور ناصر حسین کو ننکانہ صاحب کے گاؤں پہرے والی سے حراست میں لیا گیا تھا۔بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بھارتی خاتون کو بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ پاکستانی شہری ناصر حسین کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔بھارتی خاتون کے ڈی پورٹ ہونے کی تصدیق وکیل علی چنگیزی سندھو نے بھی کر دی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ سربجیت کورکو اس کی مرضی سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے، فارنر ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور پاکستان نہیں رہ سکتی تھی، سربجیت بھارت سے اب سے ویزہ پر پاکستان آئے گی۔واضح رہے کہ نومبر 2025 میں بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور(نور بی بی) کو ہراساں کرنے کا معاملہ لاہورہائی کورٹ میں سماعت ہوا تھا۔ جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی (سربجیت کور) اور اس کے شوہر ناصر حسین کو ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ بھارتی سکھ خاتون نے ناصر سے نکاح کیا ہے اور اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو بھارتی خاتون کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی خاتون سربجیت کور پاکستان ا ڈی پورٹ
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔