data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)یاتری ویزے پر پاکستان آنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور کو مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان میں قیام پر بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ ان کا ویزا 13 نومبر تک کارآمد تھا تاہم ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود وہ بھارت واپس نہیں گئیں اور اس دوران ننکانہ صاحب کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کرلی۔پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے تصدیق کی کہ سربجیت کور اور ناصر حسین کو ننکانہ صاحب کے گاؤں پہرے والی سے حراست میں لیا گیا تھا۔بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بھارتی خاتون کو بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ پاکستانی شہری ناصر حسین کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔بھارتی خاتون کے ڈی پورٹ ہونے کی تصدیق وکیل علی چنگیزی سندھو نے بھی کر دی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ سربجیت کورکو اس کی مرضی سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے، فارنر ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور پاکستان نہیں رہ سکتی تھی، سربجیت بھارت سے اب سے ویزہ پر پاکستان آئے گی۔واضح رہے کہ نومبر 2025 میں بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور(نور بی بی) کو ہراساں کرنے کا معاملہ لاہورہائی کورٹ میں سماعت ہوا تھا۔ جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی (سربجیت کور) اور اس کے شوہر ناصر حسین کو ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ بھارتی سکھ خاتون نے ناصر سے نکاح کیا ہے اور اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو بھارتی خاتون کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی خاتون سربجیت کور پاکستان ا ڈی پورٹ

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی