زبیر صفدر کی قائداعظم یونیورسٹی میں شرپسند عناصر کی حملے ودھمکیوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-08-19
اسلام آباد( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل زبیر صفدر نے قائداعظم یونیورسٹی میں منعقدہ اسلامی معاشیات و ترقیاتی کانفرنس پر لسانی و شرپسند عناصر کی جانب سے دھمکیوں اور حملے کی کوشش کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں پر اس نوعیت کا حملہ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ قائد کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع اسلامی جمعیت طلبہ اسلام آباد کے ناظم مصعب روحان، معتمد حاشر عباسی اور جامعہ قائد کے اساتذہ انجمن کے عہدیداران بھی موجود تھے۔مکالمے کے مراکز ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بعض تعلیمی ادارے لسانی، قوم پرست اور شرپسند عناصر کی آماجگاہ بنتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تعلیمی ماحول کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ وحدتِ پاکستان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔زبیر صفدر نے کہا کہ کانفرنس کو زبردستی بند کرانے کی کوشش، خواتین اساتذہ کو دھمکانا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا بنیادی انسانی، تعلیمی اور اخلاقی اقدار کی کھلی توہین ہے۔ ایسے عناصر کے باعث قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر ریاستی اداروں کی خاموشی مزید تشویش ناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست قائداعظم یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور تعلیمی اداروں سے قوم پرست و لسانی شرپسند عناصر کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ ریاستی ادارے جامعات میں اپنی رِٹ بحال کریں، خوف کی فضا کا خاتمہ کریں اور علم، مکالمے اور تحقیق پر پہرے بٹھانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی یقینی بنائیں، تاکہ تعلیمی ادارے اپنا اصل کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ہر سطح پر تعلیمی اداروں کے امن، اساتذہ کے احترام اور طلبہ کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔