حیدرآباد کو جان بوجھ کر کھنڈر میں تبدیل کیا جارہا ہے، ریحان راجپوت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رُکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد کو جان بوجھ کر کھنڈر میں تبدیل کیا جارہا ہے، میئر حیدرآباد کاشف شورو مخصوص علاقوں میں ترقیاتی کام کروارہے ہیں جبکہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں سڑکیں،
گلیاں، محلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ خاص طورپر پھلیلی پریٹ آباد، ملت آباد، مکھی باغ سمیت لطیف آبا دکے مختلف یونٹوں میں صورتحال انتہائی خراب ہے، جگہ جگہ گٹر کے ڈھکن کھلے ہونے سے بچوں کی ہلاکت ہورہی ہے، حیدرآبا دکے شہری اس وقت تیسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔ ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے، سرکاری وسائل کی لوٹ مار کے باعث شہر کھنڈر بنتا جارہا ہے، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے باعث شہری مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن عملی طورپر بنیادی سہولیات سے محروم کردیا گیا ہے۔ ایک طرف بھل صفائی کے نام پر 25دسمبر سے اب تک نہروں سے پانی کی سپلائی بند ہے، کروڑوں روپے کا بھل صفائی کا بجٹ ہونے کے باوجود پھلیلی، پنیاری نہروں اور لائیڈ چینل میں نہ تو بھل صفائی کی گئی ہے اور نہ ہی پشتے مضبوط کیے گئے ہیں، بیشتر ترقیاتی کام کاغذوں تک محدود ہیں تو دوسری جانب بھل صفائی کی وجہ سے پانی بند ہونے سے شہری پینے کے پانی سمیت روزمرہ کے استعمال کیلئے پانی سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔