پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں گزشتہ 2 برسوں سے ہو رہی ہیں اور حال ہی میں وہی باتیں پھر سے زور پکڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار تو حکومت بھی تیار، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

ایک 2 مرتبہ تو باضابطہ طور پر مذاکرات شروع بھی ہوئے اور رہنماؤں کی ملاقاتیں بھی ہوئی تاہم نہ تو ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلا اور نہ ہی اس کے بعد پھر سے سنجیدہ مذاکرات کا اغاز ہوا اب ایک مرتبہ پھر سے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تاہم دیکھا یہ گیا ہے کہ متعدد حکومتی رہنما پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں جبکہ وزیراعظم سمیت چند رہنما مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف مذاکرات کے لیے متعدد بار اپوزیشن کو دعوت دے چکے ہیں۔ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے اور اگر پی ٹی آئی جائز مذاکرات کے لیے آگے آئے تو ہم بھی مثبت جواب دیں گے لیکن مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں چل سکتی۔

اس سے پہلے بھی وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کے دعوت دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ سال بھی جو مذاکرات کی بیٹھک ہوئی تھی وہ بھی اسپیکر کی کوششوں سے ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی اسپیکر نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کے لیے میرے آفس کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اگر اپوزیشن چاہے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ 10 دسمبر کو اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وہ بارہا مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں مگر ہمیں یہی جواب ملا کہ وہ فیلڈ مارشل سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی مذاکرات کے حق میں نظر آتے ہیں۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 12جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہے، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے سنجیدہ تجاویز اسپیکر اسمبلی کے دفتر لے آئے، اسی طرح سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کے خلاف ہیں۔ 24 دسمبر کو انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ملک کی بدنامی کے لیے آئی ایم ایف کو خطوط لکھنے سمیت کیا کچھ نہیں کیا، مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، پی ٹی آئی کے پاس بات چیت کے لیے کوئی آپشن نہیں لیکن اس کے لیے برطانیہ اور امریکا سے آپریٹ ہونے والے اکاؤنٹس سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے پاک فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف پروپیگنڈا کیا، ایسی سوچ پر لعنت ہی بھیجی جا سکتی ہے کہ عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں، ایسے لوگ یاد رکھیں گے کہ پاکستان اب بدل چکا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے برابری کی سطح پر مذاکرات کی خواہشمند لیکن رکاوٹ کون؟

 وزیر دفاع خواجہ آصف بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے خلاف نظر آتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز ہی کہا ہے کہ 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم ہے لیکن عمران خان تو اپنی ذات کے علاوہ کسی کا سوچتے ہی نہیں اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو سکے گی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا، عمران خان اپنی ذات سے سوچنا شروع کرتے ہیں اور وہیں ختم کردیتے ہیں، پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں، پارٹی کے اندر ہی جب تقسیم ہے تو یہ 5 بڑوں میں کیسے شامل ہو سکتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا تھا کہ وفاق کو بلیک میل اور حملہ کرنے کی باتیں کچھ عرصے سے کی جا رہی ہیں، عمران خان کا مفاہمت اور بات چیت کا ایجنڈا ہی نہیں، مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں مگر۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس سوچ کے حامل نہیں۔ ان کے بقول عمران خان نے ساری سیاسی زندگی ذاتی مفاد کو اول و آخر ترجیح دی۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے 28 دسمبر کو کہا ہے کہ پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرکے دیکھ لے، پیشگی شرائط پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرلے، پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، طلال چوہدری

ن لیگ کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کبھی مذاکرات کے حق میں اور کبھی خلاف بیان دیتے ہیں۔

2 جنوری کو رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا پی ٹی آئی کی دوسری قیادت، وہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈائیلاگ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب تک عمران خان کی پالیسی ڈائیلاگ کی نہ ہو بات نہیں بن سکتی۔

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا ہے، علیمہ خان درست کہتی ہیں کہ مذاکرات کی بات کرنے والا ہم میں سے نہیں، مذاکرات کی راہ میں عمران خان ہی ہمیشہ رکاؤٹ رہے ہیں، اس کی ذمہ داری انہیں پر ہیں، پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔

رانا ثنا اللہ نے ایک اور موقعے پر کہا تھا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس میں اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور اس سے پہلے 4 مرتبہ مشروط دعوت دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے لیے تیار رہنے کا اعلان، کیا اس مؤقف پر عمران خان کی رہائی ممکن ہوسکے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی جمہوریت کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہیں نہ کہ تصادم اور انتشار لیکن عمران خان مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے بلکہ تصادم، فتنہ فساد اور افراتفری پر یقین رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی پی ٹی آئی حکومت مذاکرات حکومت عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی حکومت مذاکرات حکومت ئی کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ مذاکرات کے مذاکرات کے لیے نے کہا تھا کہ کہ پی ٹی ا ئی کہ عمران خان قومی اسمبلی کہ مذاکرات مذاکرات کا ان مذاکرات مذاکرات کی ئی مذاکرات پی ٹی آئی کرتے ہیں انہوں نے بات چیت چکے ہیں ہیں اور کے خلاف کی بات

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان