WE News:
2026-07-24@02:07:02 GMT

کیا 2026 میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

کیا 2026 میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟

دنیا بھر میں جہاں مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری بینکس سنہ 2026 میں سونے کی قیمتوں کے مجموعی طور پر مضبوط رہنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا اور بعض غیر رسمی مالیاتی پلیٹ فارمز پر یہ دعوے بھی گردش کر رہے ہیں کہ رواں سال میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی یا نمایاں اصلاح دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا ہوگیا؟

ان رپورٹس کے مطابق اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے، سود کی شرحیں بلند رہتی ہیں اور ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی حالیہ تیزی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری، جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان سونے کو سہارا دے سکتا ہے۔ اس لیے سال 2026 میں گولڈ مارکیٹ کو لے کر تصویر واضح نہیں بلکہ اتار چڑھاؤ، افواہوں اور متضاد پیشگوئیوں سے بھرپور دکھائی دیتی ہے جہاں قیمتیں یا تو نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں یا پھر ایک محدود حد تک نیچے آنے کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔

کراچی گولڈ ایسوسی ایشن کے ممبر عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں اس وقت سونا اور چاندی مکمل طور پر تیزی کے رجحان پر گامزن ہیں اور قیمتوں میں کمی سے متعلق فی الحال کوئی ٹھوس یا مستند اشارہ سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیے: سال 2025 میں سونے کی قیمتوں کا کیا رجحان رہا؟

ان کے مطابق پیر کو مارکیٹ کے آغاز پر ہی سونے نے تقریباً 100 ڈالر کا اپر ہائی بنایا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران بھی سونا 88 ڈالر پلس کی پوزیشن میں رہا جو مارکیٹ میں مضبوط خریداروں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ چاندی کی صورتحال بھی انتہائی مثبت ہے جہاں قیمتوں میں 4 ڈالر تک اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 76 ڈالر کی سطح کو چھونے کے بعد بھی ڈھائی سے 3 ڈالر پلس پر مستحکم رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی واضح علامت ہے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

وہ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی ایک اہم عنصر بنی ہوئی ہے جہاں ایک خطے میں تناؤ کم ہوتا ہے تو دوسرے خطے میں بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر وینزویلا اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کو وہ نہایت تشویشناک قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور چین، سعودی عرب، ایران اور روس جیسے بڑے ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں جس کے باعث صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟

عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جنگی قدم اٹھایا گیا تو یہ تنازع ایک وسیع عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی جیسی کموڈیٹیز پر بھی پڑیں گے اور ایسی صورتحال میں سرمایہ کار عموماً محفوظ اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ ڈالر کی قدر میں بھی مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر ڈالر کو مختلف محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی پس منظر میں نئی نسل اور سرمایہ کاروں کا رجحان تیزی سے فزیکل گولڈ اور سلور کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ کمپیکٹ، آسانی سے خرید و فروخت کے قابل اور ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں۔

عبداللہ چاند کا مزید کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں کو صنعتی مانگ بھی مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہے کیونکہ نئی ٹیکنالوجیز، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی شعبوں میں چاندی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث اس دھات میں نمایاں کمی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

 عبداللہ چاند نے کہا کہ اگر موجودہ عالمی اور معاشی حالات اسی طرح برقرار رہے تو سال کے اختتام تک پاکستان میں سونے کی قیمت تقریباً 6 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے جبکہ چاندی کی قیمتیں بھی بتدریج اوپر کی جانب بڑھنے کا امکان رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟

راولپنڈی صرافہ ایسوسی ایشن کے رکن محمد مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ سال 2026 کے آغاز میں سونے کی قیمتوں کے حوالے سے مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے تاہم مجموعی رجحان تیزی کی طرف ہی رہے گا۔

ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ سونا اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھے گا اور نئی سطحیں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محمد مجتبی کے مطابق سال 2026 کے دوران عالمی سطح پر سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے فی تولہ کی حد عبور کر سکتی ہے تاہم وہ اس بات کے قائل نہیں کہ قیمتوں میں کسی نمایاں یا مستقل کمی کی توقع کی جائے۔

مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی تجارت پر پابندی ختم کردی

ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں وقتی اصلاح تو آ سکتی ہے مگر مجموعی طور پر سونا دباؤ میں آنے کے بجائے خود کو سنبھالتا دکھائی دے گا۔

محمد مجتبی کے مطابق اگرچہ عالمی مالیاتی پالیسیز، ڈالر کی قدر اور سود کی شرحیں وقتی طور پر مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر سونا ایک مضبوط سرمایہ کاری کے طور پر ابھرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘اداروں نے نہ سنبھالا تو سونے کی انڈسٹری بھی مافیا کے ہاتھ چلی جائے گی’

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو افواہوں کے بجائے مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سونے کی قیمت گولڈ کی قیمتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت گولڈ کی قیمتیں میں سونے کی قیمت عبداللہ چاند کا کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں سرمایہ کاری ان کے مطابق قیمتوں میں مارکیٹ میں اور سرمایہ کی قیمتوں چاندی کی سکتی ہے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی