مودی نے جتنا ظلم کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
راولپنڈی پریس کلب کے باہر شہر کے تاجر نمائندوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں مشعال ملک نے کہا کہ مودی کی پالیسیاں پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 28 جنوری کو یاسین ملک کو سزا سنانے کا خطرہ ہے ان کی جان لینے کی کوشش ہوئی تو وہ دھماکہ ہو گا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائینگے۔ پانچ جنوری یوم حق خودارادیت کے موقع پر راولپنڈی پریس کلب کے باہر شہر کے تاجر نمائندوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں مشعال ملک نے کہا کہ مودی کی پالیسیاں پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔ اگر کلبھوشن کا مقدمہ عالمی عدالت لے جایا جا سکتا ہے تو حکومت یہ مقدمہ بھی وہاں لے کر جا سکتی ہے، کشمیری حریت رہنما کے آزاد ہونے تک ہم بھارت سے کوئی ہینڈ شیک قبول نہیں کریں گے۔ مشعال حسین ملک کا مزید کہنا تھا کہ حریت رہنما یاسین ملک کو بچانے کیلئے نومبر سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا ہوا ہے، تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ہم نے گلی محلے جا کر عوام کو یاسین ملک کے حوالے سے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی، اجیت ڈوول، راہول گاندھی سے مخاطب ہوں کہ یہ ایشو بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جس کی وجہ صرف مودی ہے، صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اگر یہ بارود پھٹ گیا تو اس کا ذمہ دار صرف مودی ہو گا کیونکہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ایشیا نیوکلیئر ٹپنگ بم بنا ہوا ہے، اس کا اظہار آرمی چیف صاحب نے بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سے آوازیں آ رہی ہیں کہ مودی ساری ریڈ لائنز کراس کر گیا ہے، معرکہ حق میں بھارت کو بدترین شکست ملی اس کا سارا غصہ مودی اور ڈوول یاسین ملک اور ہمارے خاندان پر اتار رہے ہیں، نیتن یاہو اور مودی نے جتنا ظلم کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو چین اور بنگلہ دیش کا ردعمل آنا ہے اور جو آگ لگنی ہے وہ کسی سے کنٹرول نہیں ہو گی۔ مشعال ملک نے کہا کہ فیلڈ مارشل بھی امریکہ میں بھارتی عزائم سے آگاہ کر چکے ہیں، بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی پر تنقید کر رہی ہے، آر ایس ایس یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ مودی نے ریڈ لائن عبور کی ہے۔ ہم مارکیٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیں گے اور یاسین ملک کی رہائی کے لئے دستخطی مہم مکمل کریں گے۔ مشعال ملک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اویسی صاحب ہوش کے ناخن لیں مقبوضہ کشمیر سے بدترحال آپ لوگوں کا اپنا ہے، اقلیتوں کے ساتھ بھارت میں جو ہو رہا ہے، وہ سب سامنے ہے، اتنی بڑھکیں نہ ماریں، حکومت کو کہتے ہیں کہ ہمیں دفتر خارجہ میں لیگل سیل چاہیے، اقوام متحدہ میں یاسین ملک صاحب کے حوالے سے پٹیشن دائر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے آگے یاسین ملک کے حوالے سے ہاتھ جوڑے تھے، پہلے اور بعد کی حکومتوں سے بھی کہا اور ابھی بھی کہہ رہے ہیں۔ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، پاکستان کی معرکہ حق کے بعد دنیا میں ایک انفولینس ہے، ہمیں کشمیر پر ایک مستقل سفیر چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے ملک نے کہا یاسین ملک نے کہا کہ کہ مودی
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔