ایس آئی ایف سی کی کاوشیں کے مثبت نتائج، ملکی معیشت کیلئے اچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: ایس آئی ایف سی کی سرمایہ دوست پالیسیوں اور صنعتی سہولت کاری کے ثمرات نمایاں، پاکستان کے صنعتی شعبے میں بڑی توسیعی پیش رفت،ایس آئی ایف سی کی دوراندیش معاشی اصلاحات اور پالیسی تسلسل کے باعث بڑھتا کاروباری اعتماد پاکستان کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اصلاحاتی تسلسل، پالیسی ہم آہنگی اور بہتر کاروباری ماحول کے نتیجے میں بڑے صنعتی ادارے توسیعی سرمایہ کاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ملک کی صفِ اوّل کی سیمنٹ ساز کمپنی ڈی جی خان سیمنٹ نے پاکستان کی سب سے بڑی سنگل یومیہ کلنکر لائن کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
نئی کلنکر لائن کی یومیہ پیداواری صلاحیت 11 ہزار ٹن ہوگی، جو ملکی صنعتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، 11 ہزار ٹن یومیہ صلاحیت کی حامل نئی کلنکر لائن ملکی صنعتی شعبے میں ایک نمایاں اور تاریخی اضافہ ثابت ہوگی۔
کلنکر صلاحیت میں اضافہ سیمنٹ سیکٹر کی لاگت مؤثر بنانے اور بڑھتی ہوئی تعمیراتی طلب کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، یہ توسیع پاکستان کے تعمیراتی اور انفراسٹرکچر شعبے کے لیے مضبوط سپلائی بنیاد فراہم کرے گی۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
ڈی جی سیمنٹ ملک بھر میں متعدد پیداواری یونٹس کے ذریعے کلنکر اور مختلف اقسام کے سیمنٹ کی تیاری میں سرگرم ہے، ملکی صنعت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت، استحکام اور طویل المدتی ترقی پر مضبوط اعتماد کا مظہر ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون اور سرمایہ دوست ماحول کے باعث پاکستان میں صنعتی توسیع، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور معاشی بحالی کا عمل مسلسل تیز ہو رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی بصیرت افروز قیادت کے باعث پاکستان کا سرمایہ کاری منظرنامہ ایک نئے، مستحکم اور پُراعتماد دور میں داخل ہو چکا ہے۔
گھوٹکی میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ، 3 بچے جاں بحق ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی کی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔