این آئی سی وی ڈی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نااہل، آڈٹ رپورٹ نے پول کھول دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پروفیسر طاہر صغیر کے دور میں آٹھ ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں بے نقاب ہوئیں
کنٹریکٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے ادارے کے سروس رولز تشکیل نہیں دیے جا سکے
ڈی جی آڈٹ سندھ کی رپورٹ نے ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی جی آڈٹ سندھ کی رپورٹ 2024۔25کے مطابق پروفیسر طاہر صغیر کے خلاف نااہلی کی بنیاد پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔این آئی سی وی ڈی میں پروفیسر طاہر صغیر کی نااہلی کے باعث کنٹریکٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے ڈھائی سال کی مدت مکمل ہونے کے باوجود ادارے کے سروس رولز نہ تو تشکیل دیے جا سکے اور نہ ہی انہیں لاء ڈیپارٹمنٹ سے ویٹ کرایا جا سکا۔ڈی جی آڈٹ رپورٹ 2024۔25 کے مطابق پروفیسر طاہر صغیر کے دور میں آٹھ ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان بے ضابطگیوں کو بدانتظامی اور نااہلی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے ، جس کے باعث ادارے کو شدید مالی نقصان پہنچا۔یہ تمام صورتحال واضح کرتی ہے کہ پروفیسر طاہر صغیر بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسلسل نااہلی کا مظاہرہ کرتے رہے ، لہٰذا ان کے خلاف ذمہ داری کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔