وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی
گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے گا’ ٹرمپ نے وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی’ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے’ بھارتی وزیراعظم مودی مجھے خوش کرنا چاہتے تھے’ہم ان پر بہت جلد محصولات بڑھا سکتے ہیں، انڈیا پر مزید ٹیرف بڑھانا بہت برا ہوگا۔ اپنے طیارے ائیرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا میں تیل اور دیگر وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہئے، وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوسرا حملہ بھی کرے گا۔امریکی صدر نے وینزویلا میں اقتدار سنبھالنے والی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز اور خطے کے دیگر ملکوں کو بھی دھمکیاں دیں اور کہا کہ ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیلسی روڈریگیز کو امریکی مطالبات ماننا ہوں گے ورنہ ان کو نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، وینزویلا ممکن ہے امریکی مداخلت کا آخری ملک نہ ہو، ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے جو چینی اور روسی جہازوں سے گھرا ہوا ہے۔انہوں نے کیوبا سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعوی کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود ہی گرنے والی ہے، شاید فوجی مداخلت کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ کیوبا کی آمدنی وینزویلا سے آتی تھی اور اب انہیں وہ بھی نہیں ملے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا ایک بیمار شخص چلا رہا ہے جو کوکین بنانے اور اسے امریکا فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائے گا۔ایک موقع پر صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کولمبیا کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کی بات کر رہے ہیں؟ جس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کولمبیا کی موجودہ حکومت کیخلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کا سن کر انہیں اچھا لگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈیلسی روڈریگز ٹرمپ نے کہا گرین لینڈ کیا تو
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔