ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا زوردارحملہ کر سکتا ہے, ٹرمپ کی پھر دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-01-18
واشنگٹن/تہران/ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوپھر دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاج کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا اس پر ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے ائر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھتی ہے تو واشنگٹن شدید ردعمل دے گا۔ایران میں مہنگائی، شدید معاشی بحران اور ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکے ہیںجن میں مجموعی طور پر جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق شہر قم میں مظاہرے کے دوران گرنیڈ دھماکے سے 2 افراد جاں بحق ہوئے، قم واقعے کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوگیا۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 23 صوبوں اور کم از کم 40 شہروں تک پھیل چکے ہیں، جو حالیہ برسوں میں حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ہر شہری کو ماہانہ مالی الاؤنس دیا جائے گا۔سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ہر فرد کو ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) کے برابر رقم دی جائے گی جو 4ماہ کے لیے ان کے اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ رقم نقد کے بجائے کریڈٹ کی شکل میں ہوگی جسے مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور اس کا مقصد ’عوام پر معاشی دباؤ کو کم کرنا‘ ہے۔ یہ سہولت تمام ایرانی شہریوں کو 4ماہ تک فراہم کی جائے گی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران کی آبادی 8 کروڑ 50 لاکھ سے زاید ہے جہاں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً 100 ڈالر جبکہ اوسط تنخواہ لگ بھگ 200 ڈالر کے قریب ہے۔ ایران میں روزمرہ خریداری کے لیے زیادہ تر افراد نقد رقم کے بجائے موبائل فون اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگیاں کرتے ہیں۔قبل ازیں ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے ملک میں فساد کرنے والوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹنے کا حکم دے دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین اور ان کی تنقید کو سنا جاتا ہے لیکن ان میں اور فسادیوں میں فرق ہوتا ہے،کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہ دکھائیں۔دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹائمز کی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری مظاہروں اور حکومتی دباؤ کے پیشِ نظر پلان بی تیار کیا ہے جس کے تحت وہ انتہائی حالات میں ایران چھوڑ کر روس جاسکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایران میں حکومت مخالف احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ سیکورٹی فورسز مظاہروں سے نمٹنے میں ناکام یا ان کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو سپریم لیڈر ایران چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہلِ خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایران سے روس منتقل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ماسکو کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ سابق شامی صدر بشار الاسد نے کیا تھا۔ادھر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر عوام اور ملک کے چوکس سیکورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر قابلِ نفرت دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہوچکا ہے، موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی، غلط معلومات اور اخلاقی بددیانتی عام ہو چکی ہے۔ ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی رائفل تھامے تصویر بھی جاری کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم لیڈر ایران میں ا یت اللہ کے مطابق خامنہ ای کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔