اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کا منصوبہ؛ وزیر داخلہ کا شنگھائی اربن پلاننگ ہیڈکوارٹر کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کے منصوبے کے تحت وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے شنگھائی کے شہری منصوبہ بندی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں شنگھائی اربن پلاننگ کی سربراہ چن نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ کو شنگھائی شہر کی ماسٹر پلاننگ، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کو شنگھائی میں شہری سہولیات کے ساتھ تیز رفتار ترقی کے مربوط نظام سے آگاہ کیا گیا جب کہ ویڈیوز اور ماڈلز کے ذریعے شنگھائی کے ترقی کے سفر اور ماسٹر پلان کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے شنگھائی کے جدید سہولتوں سے آراستہ اسٹیڈیم کا ماڈل بھی ملاحظہ کیا۔
محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ کے تحت تمام معلومات کو جدید طرز پر یکجا کرنے کے نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اس نظام کی تعریف کی۔ انہوں نے شہر کے نظام کو مربوط اور فول پروف بنانے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ شنگھائی شہر تیز ترین ترقی میں اپنی مثال آپ ہے اور شنگھائی کی ترقی ہر شہر کے لیے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں۔ شنگھائی کی تیز رفتار ترقی سے استفادہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورے کے اختتام پر وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شنگھائی اربن پلاننگ محسن نقوی نے اسلام آباد وزیر داخلہ نے شنگھائی
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔