فٹ پاتھ اور سڑکوں پر تجاوزات ناقابل برداشت: کراچی میں کریک ڈاؤن مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے فٹ پاتھوں، سڑکوں اور سروس روڈز پر قائم تجاوزات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف بلا تعطل کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ کمشنر آفس میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں شہر بھر کے انتظامی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے بالمشافہ جب کہ اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کمشنر کراچی نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کو مزید سخت کیا جائے اور دکانداروں کو انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔
کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ دکانداروں کو صرف مقررہ حدود میں کاروبار کی اجازت دی جائے گی تاکہ شہر میں ٹریفک دباؤ کم ہو اور سرکاری زمینوں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی حکومتی کوششیں کامیاب بنائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پیدل چلنے کے لیے فٹ پاتھ واپس دلانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو دکاندار ایس او پیز پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کے طور پر حلف نامہ جمع نہیں کرائے گا، اس کی دکان نہیں کھولی جائے گی۔ مزید یہ بھی طے کیا گیا کہ 3 روز تک سیل رہنے والی دکانوں کے مالکان متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں حلف نامہ جمع کرانے کے بعد ہی دکان کھلوانے کے اہل ہوں گے۔
حکام نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دکان سیل ہونے کے 3 دن مکمل ہونا لازم ہوگا جب کہ حلف نامہ جمع کرانے کے باوجود خلاف ورزی کی صورت میں دکاندار کو گرفتار کیا جا سکے گا اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز رابعہ سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹس کے مطابق اب تک مختلف اضلاع میں 430 دکانیں اور 177 روڈ سائیڈ ہوٹل سیل کیے جا چکے ہیں۔ سب سے زیادہ کارروائی ضلع جنوبی میں کی گئی جہاں 246 دکانیں اور 76 ہوٹل بند کیے گئے جب کہ ضلع شرقی، وسطی اور کورنگی میں بھی بڑی تعداد میں تجاوزات کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مہم بلا امتیاز جاری رہے گی اور شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تجاوزات کے اجلاس میں کے خلاف
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔