مادورو گرفتاری چین کی سفارتی آزمائش، امریکا سے اقوامِ متحدہ میں ٹکراؤ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بیجنگ (نیوز ڈیسک) مادورو گرفتاری چین کی سفارتی آزمائش، امریکا سے اقوامِ متحدہ میں ٹکراؤ متوقع، واشنگٹن پر دنیا کا جج بننے کا الزام، چین اور روس کی حمایت سے سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس بلایا جا رہا ہے، عالمی رائے عامہ ہموار کرنے میں بیجنگ کا اہم کردار، اس کا دعویٰ ہے وہ عالمی تنازعات پرامن حل کرسکتا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق چین نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے امریکاپر دنیا کا جج بننے کا الزام عائد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس اقدام کی قانونی حیثیت کو اقوامِ متحدہ میں چیلنج کرے گا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا کہ کوئی بھی ملک عالمی پولیس یا جج نہیں بن سکتا اور تمام ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ بین الاقوامی قانون کے تحت ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔