City 42:
2026-07-24@03:43:47 GMT

نیٹ میٹرنگ پالیسی پر پابندی کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

شاہد سپراء: وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ منصوبے پر پابندی لگانے کے معاملے کے بعد پنجاب حکومت کی متعدد اہم ترین عمارات کی نیٹ میٹرنگ روک دی گئی ہے۔

 ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے محکمہ انرجی نے اس حوالے سے لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو باقاعدہ مراسلہ بھیج دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی نئی اور پرانی عمارت میں نیٹ میٹرنگ کا عمل معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ سپیکر ہاؤس پر بھی سولر سسٹم کی بنیاد پر نیٹ میٹرنگ پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ پیپل ہاؤس اور ایم پی اے ہوسٹل میں بھی نیٹ میٹرنگ کی سہولت روک دی گئی ہے۔

وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے مختلف سرکاری دفاتر میں نیٹ میٹرنگ کے لیے فائلیں جمع کروا رکھی تھیں، تاہم فائلز مکمل ہونے کے باوجود نیٹ میٹرنگ کی منظوری روک دی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت پاور ڈویژن نے گزشتہ ماہ لیسکو کو نیٹ میٹرنگ سے متعلق فائلوں کی منظوری سے روکنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

ذرائع کے مطابق  نیپرا نے بھی لیسکو سمیت دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے اس معاملے پر جواب طلب کر رکھا ہے۔ وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیشنز میں باضابطہ ترمیم سے قبل ہی پابندی عائد کر دی تھی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن