حکومت کی یو اے ای سے 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کرنے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 3 ارب ڈالر کے قرض کی میچورٹی سے قبل رول اوور کیلئے باضابطہ درخواست دے دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خط کے ذریعے یو اے ای قیادت سے 3 ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کرنے کی درخواست کی ہے، 2 ارب ڈالر کی میچورٹی رواں ماہ جبکہ 1 ارب ڈالر کی میچورٹی جولائی میں ہے۔
ذرائع کے مطابق یو اے ای سے حاصل کردہ 3 ارب ڈالر 2021 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈیپازٹ کرائے گئے تھے، 1 ارب ڈالر کا قرض جنوری کے دوسرے ہفتے جبکہ ایک ارب ڈالر کی ایک اور قسط جنوری کے تیسرے ہفتے میں میچور ہو جائے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف 18جنوری سے سوئٹزرلینڈ کا چار روزہ دورہ کریں گے
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی تینوں اقساط کو میچورٹی سے قبل رول اوور کرنے کی درخواست دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ تینوں اقساط بروقت رول اوور ہو جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو قرض پروگرام کے دورانیے تک یو اے ای سے رول اوور کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، رواں مالی سال یو اے ای، سعودی عرب اور چین سے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے قرض رول اوور کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سے 3 ارب ڈالر ارب ڈالر کی رول اوور کے مطابق یو اے ای
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا