data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدرامان پراچہ نے سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت کم کرنے کے حکومتی فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت 29روپے سے کم کرکے 11روپے کرنے کے فیصلے سے ایک طرف ملک میں ہونے والی نئی سرمایہ کاری بری طرح سے متاثر ہوگی بلکہ کاروباری طبقہ مایوس ہوگا اور ان کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوسکتی ہے جبکہ لوگ ہائیبرڈ پرچلے جائیں گے اور جوبجلی استعمال ہورہی ہے اس سے بھی انہیں ہاتھ دھونا پڑیں گے۔امان پراچہ نے کہا کہ سولر صارفین قوانین 2025 کا نام دے کر نیپرا نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد وزارت توانائی نے منظوری دی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی بزنس کمیونٹی کے سے سے بڑے نمائندہ ادارے ایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیااور تمام سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جو کہ سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام متعارف کروا نے کے نام پرصارفین سے سولر معاہدے کی مدت 7 سال سے کم ہو کر 5 سال کی گئی جبکہ نیٹ میٹرنگ صارف کو 22 کے بجائے 10 روپے ادائیگی کی تجویزبھی دی گئی ہے جو ناقابل برداشت ہوگی اس طرح سے نئی سولر پالیسی میں نیٹ میٹرنگ کے فائدہ ختم ہوجائے گا۔امان پراچہ نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں سولر صارف 25 روپے 98 پیسے فی یونٹ قیمت کا فائدہ لیتا تھا جبکہ آئندہ 25 کلو واٹ سے کم لوڈ کا لائسنس نیپرا سے لینا لازم ہوگا، پہلے گھریلو، صنعتی، کمرشل صارفین 25 کلو واٹ تک کو لائسنس سے استنثنیٰ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرڈ کواگر اتنی ہی بجلی واپس کر دی جاتی جتنی آپ استعمال کرتے تھے تو بجلی کا بل عملی طور پر صفر ہو سکتا تھا، اس نظام میں اپنی بجلی خود استعمال بھی کر رہے ہوتے تھے اور اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر کے فائدہ بھی اٹھاتے تھے،اسی وجہ سے پرانا نیٹ میٹرنگ نظام مالی طور پر فائدہ مند اور منافع بخش بھی تھا،اس کی بڑی وجوہات یہ تھیں کہ بائی بیک ریٹ نسبتاً زیادہ تھا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اضافی بجلی تقریباً 22 سے 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدتی تھیں، جبکہ ان نرخوں کی بدولت لوگ عموماً 10 کلو واٹ سے 15 کلو واٹ کے سولر سسٹم کی لاگت دو سے پانچ سال میں پوری کر لیتے تھے مگرنئے نظام میں بلنگ کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا گیا ہے۔ اب لوگ بجلی گرڈ کو کم نرخ پر فروخت کرتے ہیں اور بدلے میں گرڈ سے بجلی زیادہ قیمت پر واپس خریدتے ہیں جو کہ عام صارف کا یونٹ ریٹ ہے یعنی 34 روپے ہے۔ سولر پینلز سے پیدا ہونے والی تمام بجلی براہِ راست گرڈ کو تقریباً 10 سے 11.

33 روپے فی یونٹ کے مجوزہ نرخ پر فروخت کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں 10 کلو واٹ کے سولر سسٹم کی لاگت پوری ہونے میں اب چھ سے سات سال لگ سکتے ہیں۔ امان پراچہ نے کہا کہ اگر حکومت نیٹ میٹرنگ صارفین کو محدود کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے توسوال یہ ہے کہ کیا اس سے کمزور ہوتے بجلی کے گرڈ کو بچایا جا سکے گا؟ یا پھر بالآخر حکومت نان نیٹ میٹرڈ سولر صارفین کے پیچھے بھی جائے گی تاکہ نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس کے لیے درکار آمدن ممکن بنائی جا سکے؟۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت نے خود گرین انرجی کی جانب منتقلی کی پالیسی متعارف کرائی جس کے تحت بزنس کمیونٹی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے سولر اور دیگر متبادل توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ لگایا تاہم اب سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت 29 روپے سے کم کرکے 11 روپے کرنے کا فیصلہ کاروباری طبقے کی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچائے گا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ امان پراچہ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے ہمیشہ سے ہی یہ آواز اٹھائی ہے کہ حکومت پالیسی کا تسلسل لائے، کیونکہ اگر پالیسی کا تسلسل نہ ہوگا تو تو اس وقت تک سرمایہ کاری بھی نہیں ہوپائے گی اور کوئی بھی پالیسی کا اعلان ہوتو اس میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے تاکہ مذکورہ پالیسی کے بہتر نتائج مل سکیں۔

کامرس رپورٹر سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت سرمایہ کاری کلو واٹ گرڈ کو

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ