پنجاب اسمبلی میں کوڈ آف کریمنل پراسیجر ترمیمی بل 2025 متعلقہ کمیٹی کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
سٹی42: پنجاب اسمبلی میں فوجداری قانون میں اہم ترامیم کے لیے کوڈ آف کریمنل پراسیجر ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا ہے۔ بل کے تحت مجرموں کی بریت کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ترمیم کے مطابق اپیل دائر کرنے کی منظوری کا اختیار پہلے حکومت کے پاس تھا، لیکن اب یہ اختیار سیکرٹری پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے پبلک پراسیکیوٹر اپیل دائر کرنے کے لیے حکومت سے درخواست کرنا ضروری تھی، جبکہ ترمیم کے بعد وہ براہِ راست سیکرٹری پراسیکیوشن کو درخواست دے کر اپیل دائر کر سکیں گے۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
بل میں فوجداری فیصلوں پر نظرثانی کے عمل کو تیز کرنے، کاغذی کارروائی اور قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں، تاکہ جرائم کے کیسز میں اپیل کا عمل آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔
متعلقہ قائمہ کمیٹی بل کے حوالے سے دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد بل کو پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔ بل کی حتمی منظوری کے بعد گورنر پنجاب اسے قانونی شکل دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز