جمہوری اسلامی ایران کیخلاف منظم پروپیگنڈہ اور رہبرِ معظم کی استقامت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: آج کا ایران نہ ٹوٹ رہا ہے، نہ بکھر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے، جو شور سے نہیں، شعور سے چلتا ہے؛ جو افواہوں سے نہیں، اصولوں سے راستہ بناتا ہے۔ انقلابِ اسلامی کی فکری بنیادیں، رہبرِ معظم کی بصیرت اور عوامی استقامت اس بات کی ضمانت ہیں کہ ایران ہر طوفان کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتا ہے۔احتجاج اگر اخلاق اور قانون کے دائرے میں ہو تو قابلِ فہم ہے، مگر دنگا فساد، فحاشی اور بے حیائی کسی بھی نام سے ہو، قابلِ مذمت ہے۔ ایران نے یہی مؤقف اپنایا ہے اور یہی مؤقف اسے باقی دنیا سے ممتاز بناتا ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
آج ایران کو جس منظرنامے میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے زیادہ ایک منظم بیانیے کا نتیجہ ہے۔ احتجاج، بدامنی، افواہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا خوف، یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش ہے، جس کا زمینی حقائق سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایران میں احتجاج ہو رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ احتجاج کو کس نیت سے، کس حد تک اور کس مقصد کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے کہ احتجاج ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ امریکہ میں نسل پرستی، پولیس تشدد اور معاشی ناانصافی کے خلاف آئے دن مظاہرے ہوتے ہیں۔ یورپ کی سڑکیں مزدور تحریکوں اور سیاسی احتجاج سے خالی نہیں رہتیں۔ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں بھی اختلافِ رائے سڑکوں پر نظر آتا ہے تو پھر ایران میں ہونے والے محدود احتجاج کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا اور اسے ریاستی انہدام سے جوڑ دینا، ایک دانستہ فکری مغالطہ نہیں تو اور کیا ہے۔؟
احتجاج اور انتشار کے درمیان لکیر اسلامی جمہوریۂ ایران نے بارہا واضح کی ہے کہ پرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے، لیکن اس حق کی آڑ میں دنگا فساد، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، فحش نعرے، بے حیائی اور غیر اخلاقی رویئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران ایک عام ریاست نہیں بلکہ ایک اسلامی اور نظریاتی نظام رکھتا ہے، جہاں آزادی کو اخلاقی حدود سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بے حیائی، فحش گوئی اور اخلاقی انحطاط کو احتجاج کا نام دینا دراصل احتجاج کی روح کی توہین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی اسلامی حکومت نے ہمیشہ ایسے عناصر کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ وہ مراکز جو کبھی فحاشی اور سماجی بگاڑ کی علامت تھے، آج بند پڑے ہیں، کیونکہ انقلابِ اسلامی نے معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ آزادی کا مطلب بے راہ روی نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔
انقلابِ اسلامی، محض اقتدار نہیں، ایک مکمل فکر ہے۔ ایران کا انقلابِ اسلامی کسی تخت یا حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک فکری، اخلاقی، ثقافتی اور تہذیبی انقلاب تھا، جس نے قوم کو اپنی شناخت لوٹائی۔ اس انقلاب نے ایران کو بیرونی انحصار سے نکال کر خودداری کا راستہ دکھایا اور یہ باور کرایا کہ قومی وقار بندوقوں سے نہیں بلکہ اصولوں سے قائم رہتا ہے۔ انقلابِ اسلامی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا استحکام ہے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں ایران نے پابندیاں بھی دیکھیں، عالمی دباؤ بھی سہا، جنگیں بھی بھگتیں، مگر نظام اپنی جگہ قائم رہا۔ یہ استحکام کسی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عوامی شعور، نظریاتی وابستگی اور قیادت پر اعتماد کا ثمر ہے۔
ان تمام حالات میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا کردار فیصلہ کن اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ محض ایک سیاسی رہنماء نہیں بلکہ انقلابِ اسلامی کے فکری نگہبان، اخلاقی معمار اور قومی استقامت کی علامت ہیں۔ ان کے بارے میں یہ افواہیں کہ وہ ملک چھوڑ چکے ہیں، دراصل ان قوتوں کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے، جو ایران کو اندر سے کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔ رہبرِ معظم وہ شخصیت ہیں، جو دباؤ میں فیصلے نہیں کرتیں اور جن کے بارے میں بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ سر جھکانے والوں میں سے نہیں، سر کٹوانے والوں کی صف میں کھڑے رہنے والے رہنماء ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ قومی خود مختاری افواہوں سے نہیں ڈگمگاتی۔
سوشل میڈیا پر جو تصویر دکھائی جا رہی ہے، وہ ایران کی روزمرہ حقیقت کی عکاس نہیں۔ ایران میں تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، بازار آباد ہیں، ریاستی مشینری فعال ہے اور عوام اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں، جنہیں جان بوجھ کر پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، تاکہ ایک بحران کا تاثر برقرار رکھا جا سکے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار ہے۔ بعض بین الاقوامی ادارے بلا تحقیق سوشل میڈیا کلپس کو خبر بنا رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتِ حال کشمیر میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں خود ساختہ فیس بک پیجز اور نام نہاد صحافی مائیک ہاتھ میں لے کر نہ صحافتی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں، نہ زبان کی شائستگی کا، نہ خبر کی تصدیق کا۔ چیخنا صحافت نہیں، افواہ پھیلانا رپورٹنگ نہیں اور بے ہودہ زبان استعمال کرنا اظہارِ رائے نہیں۔ ایسے عناصر صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عوامی شعور کو مجروح کر رہے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ جب دنیا کے ہر خطے میں احتجاج ہو رہے ہیں تو پھر ایران کو ہی غیر معمولی طور پر کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔؟ اس کا جواب سادہ ہے۔ایران ایک آزاد، خود مختار اور نظریاتی ریاست ہے اور یہی بات بعض طاقتوں کو ناگوار گزرتی ہے۔ آج کا ایران نہ ٹوٹ رہا ہے، نہ بکھر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے، جو شور سے نہیں، شعور سے چلتا ہے؛ جو افواہوں سے نہیں، اصولوں سے راستہ بناتا ہے۔ انقلابِ اسلامی کی فکری بنیادیں، رہبرِ معظم کی بصیرت اور عوامی استقامت اس بات کی ضمانت ہیں کہ ایران ہر طوفان کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتا ہے۔احتجاج اگر اخلاق اور قانون کے دائرے میں ہو تو قابلِ فہم ہے، مگر دنگا فساد، فحاشی اور بے حیائی کسی بھی نام سے ہو، قابلِ مذمت ہے۔ ایران نے یہی مؤقف اپنایا ہے اور یہی مؤقف اسے باقی دنیا سے ممتاز بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جا رہا ہے یہی مو قف ایران نے سے زیادہ بے حیائی کہ ایران بناتا ہے ایران کو رہے ہیں سے نہیں ہے اور اور یہ ہیں کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔