سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد بھی پار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج ٹریڈنگ کے دوران ایک بار پھر نئی حد کو عبور کر گئی۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 1400 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 83 ہزار 834 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔تاہم ٹریڈنگ کے دوران سٹاک ایکسچینج اچانک مثبت سے منفی زون میں چلی گئی اور انڈیکس ایک لاکھ 81 ہزار 182 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔بعدازاں ٹریڈنگ کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ایک بار پھر سے زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 2500 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار 50 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس 3373 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 82 ہزار 408 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔دوسری جانب انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 2 پیسے کی کمی ہوئی، ڈالر 280.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انڈیکس ایک لاکھ سٹاک مارکیٹ میں سٹاک ایکسچینج پاکستان سٹاک پوائنٹس کی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔