سپریم کورٹ نے سیشن ججز اختیارات پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ میں سیشن ججز اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل منظور کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے سیشن جج کیس منتقل کرنے کے حکم کو کالعدم کردیا ہے جبکہ کیس منتقلی کے حوالے سے سیشن جج قصور کا فیصلہ بحال کردیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا سیشن جج کیس ٹرانسفر کرسکتا ہے؟ جس پر وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ سیکشن 526 کے تحت سیشن جج چارج فریم کرنے سے پہلے مقدمہ ٹرانسفر کا اختیار رکھتا ہے۔ وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ 528 کے تحت فیصلہ سنانے سے پہلے بھی سیشن جج مقدمہ ٹرانسفر کرسکتا ہے۔ سیشن جج فیصلے پر صرف ہمارے کچھ اعتراضات ہیں۔ وکیل مدعی مقدمہ نے کہا کہ 25-30 کلومیٹر دور دوسرے مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ کو منتقل کیا گیا ہے۔ ساری سڑک ٹوٹی پھوٹی ہے۔ مقدمہ ٹرانسفر کرنے سے پہلے دونوں فریقین کی رائے لینا چاہیے تھی۔ جسٹس مندوخیل کا کہنا تھا کہ اب کیا ہم اس مقدمے میں حکومت کو سڑک بنانے کا کہہ دیں؟ سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ منتقل کیا تھا۔ سیشن جج کے حکم کے خلاف مدعی مقدمہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے سیشن جج کے حکم کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کورٹ نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔