اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ( پی پی پی) منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کر ا دیا، آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں رسک کی نگرانی کے لیے فریم ورک کو بہتر بنایا جائے گا اور اس میں صوبوں کو بھی شامل کیا جائے گا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کے لیے انتخاب کی شرائط کو سخت کیا جائے گا،اور اس کے لیے وزارت خزانہ میں قائم رسک مینجمنٹ یونٹ ، وزارت خزانہ اور دیگر سٹیک ہولڈروں ،اے ڈی پی کی مدد سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی کانٹی جےنٹ ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے رسک مانیٹرنگ فریم ورک تیار کرے گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے حکومت پر مالی دباو  472 ارب روپے ہے، اب تمام صوبے اور وفاق ہر 6 ماہ بعد پی پی پی منصوبوں کی رپورٹ دیں گے۔ دریں اثناءوزارت خزانہ نے ترسیلات پر فراہم کی جانے والی مالی ترغیبات میں کمی لانے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ مئی تک اس کا پلان آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر لیا جائے گا۔ اس عرصے کے دوران جاری ترغیبات کی سکیمیں جاری رہیں گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جائے گا کے لیے

پڑھیں:

اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان

تصویر، فیس بک

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم