اسلام آباد (وقائع نگار) وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے جہاں آئین و قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے اجتماعی مزاحمت ناگزیر ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد بار کے عہدیداروں، وکلاءبرادری اور میڈیا نمائندگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءہمیشہ آمریت، جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف صفِ اول میں رہے ہیں۔ انہوں نے ایمان مزاری کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے اس دور میں انہوں نے بہادری، استقامت اور جرات کی نئی مثال قائم کی ہے، جس سے ملک بھر کے نوجوانوں کو حوصلہ اور جرات ملی ہے۔ تحریک انصاف کا ہر کارکن صرف انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی چاہتا ہے۔ خیبر پی کے میں گرینڈ امن جرگے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومت اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد کے زیرِ اہتمام تقریب میں وکلاءرہنماو ں اور سیاسی شخصیات نے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ وکلاءنے ہمیشہ حق، سچ اور قانون کی حکمرانی کا ساتھ دیا ہے اور کسی بھی قسم کے دباو  یا جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا۔ گزشتہ روز انصاف لائرز فورم کی جامب سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوانوں اور خواتین کی مزاحمت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی ارشد شریف کو سچ بولنے کی قیمت جان کی صورت میں ادا کرنا پڑی، جبکہ دیگر صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر آئین کی بالادستی کے لیے کھڑا نہ ہوا گیا تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے وکلاءسے اپیل کی کہ وہ تحریک کا اعلان کریں، کیونکہ پاکستان کا نوجوان ان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ تقریب کے دوران وکلاء کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی، جبکہ مقررین نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف آواز اٹھانے پر زور دیا۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، عدلیہ اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی بالادستی اسلام آباد کرتے ہوئے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے