اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپر ٹیکس کی مدلل وضاحت پر آئینی عدالت نے ایف بی آر کو سراہتے ہوئے کہاکہ مذکورہ ٹیکس کی جامع تعریف قابل تعریف ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں، چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان پہلی بار وفاقی آئینی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت مخدوم علی خان نے مو قف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کے ذریعے 2015ءمیں ابتدائی طور پر 80 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ 2015ءسے 2022ءکے دوران سپر ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 114 ارب روپے جمع کیے گئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسی عرصے میں سپر ٹیکس کے تحت جمع ہونے والی رقم میں سے تین ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بنکنگ سیکٹر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے جو آئین کے منافی ہے۔ اس موقع پر عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس بارے استفسار پر ممبر لیگل ایف بی آر میر بادشاہ نے آگاہ کیا کہ دوسری جانب بنکنگ سیکٹر پر مذکورہ ٹیکس کے غیر مساوی یا غیر امتیازی ہونے بارے اعتراض پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیاکہ تمام بنکوں کے لیے ایک ہی شرح مقرر کی گئی ہے امتیازی تو اس صورت میں ہوتا جب ایک بنک سے ایک شرح کے حساب سے وصولی کی جائے اور کسی دوسرے بنک سے اس شرح سے کم یا زیادہ وصول کی جائے۔ آئینی عدالت نے کہاکہ سپر ٹیکس بارے ابہام دور ہوگئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز منگل سے کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکلاءعاصمہ حامد اور شاہنواز میمن نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔ سماعت کے اختتام پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت میں ایف بی آر کے وکلاءانکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز کریں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئینی عدالت ایف بی آر سپر ٹیکس عدالت نے کیا کہ

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا